سوات: مارٹرگولہ گرنے سے ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جمعہ کو ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام کو تحصیل خوازہ خیلہ میں جختی کے مقام پر ایک مارٹرگولہ مکان پر گرا جس سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونےوالوں میں میاں بیوی اور انکے تین بچے شامل ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مارٹر گولہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے داغا گیا تھا۔تاہم سوات میڈیا سینٹر نے اس بات کی تردید کی ہے اور واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل سوات میں جمعہ کو سکیورٹی فورسز پر ہونے والے دو مختلف حملوں میں دو اہلکار اور تین عام شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مبینہ خود کش بمبار نے جمعہ کی دوپہر کو بارود سے بھری ایک گاڑی مینگورہ سے دو کلومیٹر دور فضاء گھٹ چیک پوسٹ کے ساتھ ٹکرا دی۔ ان کے بقول اس حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل جمعہ کی صبح بھی سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ تختہ بند کے مقام پر سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیے گئے بم دھماکے کی زد میں آیا۔ ان کے مطابق اس واقعےمیں سکیورٹی اہلکاروں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچاہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں تین شہری ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فوجی ترجمان میجر ناصر اس بات کی تردید کی ہے کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں پر ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ دوسری طرف جمعہ کو پہلی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کے سوات سے منتخب ہونے والے تین اراکین اسمبلی تقریباً چھ ماہ کے بعد پہلی مرتبہ سوات پہنچ گئے ہیں۔ صوبائی وزیر ایوب اشاڑئی، سید جعفر شاہ اور شیر شاہ خان جمعہ کی صبح مینگورہ پہنچے جہاں انہوں نے چند گھنٹے قیام کیا۔ انہوں نے فوجیوں کے مرکز سرکٹ ہاؤس میں مقامی صحافیوں سے بات چیت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کرنے کے حوالے سے عوام جلد خوشخبری سن لیں گے جس سے امن کا قیام ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ کاروائیوں کے دوران عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں۔ ان کے بقول صوبائی حکومت سکولوں کو کھولنے اور تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی تعمیر کے حوالے سے جلد اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ سوات میں طالبان نےشدت پسند کاروائیوں میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین اسمبلی کے قریبی رشتہ داروں کو قتل کیا ہے جس کے بعد گزشتہ چھ ماہ سے کوئی بھی رکن سوات نہیں جا سکے تھے۔ | اسی بارے میں علاقہ چھوڑ کر بھاگوں گا نہیں: افضل خان23 January, 2009 | پاکستان سوات:سرحد حکومت کی’بے اختیاری‘20 January, 2009 | پاکستان سوات تشدد کی دلدل میں19 January, 2009 | پاکستان سوات: تشدد جاری، تین ہلاک18 January, 2009 | پاکستان 2008، پاکستان میں بدترین دہشت گردی19 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک17 January, 2009 | پاکستان سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||