سوات:سرحد حکومت کی’بے اختیاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں حکمران عوامی نیشنل پارٹی کی شدت پسندی کے مسئلے پر بےبسی اور بے اختیاری آج کل واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم شدت پسندی سے نمٹنے کی حد تک حکومت تو یقیناً اس کی ہے لیکن اختیار اس کا نہیں چل پا رہا۔ پشاور میں گزشتہ دنوں صوبائی کابینہ کے ایک غیرمعمولی طور پر اجلاس میں صوبے کی صورتحال خصوصا سوات میں جاری کارروائیوں پر غور کیا اور کابینہ اس نتیجے پر پہنچی کہ سکیورٹی فورسز مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہیں۔ کابینہ کے مطابق اب تک کی فوجی کارروائی سوات میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ کارروائیوں میں عام لوگ ہی مارے جا رہے ہیں جبکہ شدت پسند ابھی بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ شدت پسندوں کی کارروائیاں ہنوز جاری ہیں اور ان میں کوئی کمی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے عوام میں بےچینی یقینی ہے جہاں معاملہ اب چہ مگوئیوں سے قیاس آرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ کابینہ کا مطالبہ تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تاکہ وہاں کا امن بحال کیا جاسکے۔ یہ ایک طرح سے سکیورٹی فورسز کے طرز عمل اور اب تک کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار تھا۔ لیکن ناراضگی سے زیادہ اس بیان سے شک کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا ایک مطلب بعض لوگ یہ بھی لے رہے ہیں کہ شاید صوبائی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے اندر بعض عناصر پر شک کر رہی ہے کہ وہ شدت پسندوں کا خاتمہ ہی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ صورتحال صوبائی حکومت کے لیے یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت کی سوچ ہے جس نے گزشتہ برس اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد قیام امن اور شدت پسندی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی پالیسی اختیار کی تھی اور سوات کے شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط بھی کر دیے لیکن بات نے نہ بننا تھا سو نہ بنی۔
اس وقت نو منتخب وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی کا اپنی پہلی تقریر میں کہنا تھا کہ شدت پسندی کا مقابلہ سیاسی عمل کے ذریعے کرنے پر نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ تمام سرکاری اداروں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تاہم اسی تقریر میں انہوں نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے عناصر موجود ہیں جو اس پالیسی کی کامیابی کی مخالفت کریں گے۔ سرحد حکومت یہ مخالفت کچھ وفاقی حکومت کی جانب سے دیکھتی ہے اور کچھ درپردہ ہاتھوں کی جانب سے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے تیار کیے ہوئے شریعت ریگولیشن کی مرکزی حکومت سے جلد از جلد منظوری سے وہ حالات کو واپس شاید قابو میں لاسکے گی۔ صوبائی حکومت کا تیار کیا ہوا قانون تو اپنی جگہ مرکز میں حکمراں پیپلز پارٹی نے جو پارلیمان سے کافی بحث مباحثے کے بعد جو مشترکہ قرار داد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منظور کروائی اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔خود مرکزی حکومت کے لوگ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ وہ خودمختار نہیں اور اصل فیصلے کرنے کی طاقت کہیں اور ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسی قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ شاید پاکستان میں حکومت اور سکیورٹی اداروں میں ربط نہیں۔ دونوں متضاد اطراف میں چل رہے ہیں۔ دوسری جانب اعلی سکیورٹی اہلکاروں نے گزشتہ دنوں اس اعتراف کے باوجود کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس مرتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن اس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ ہیں بظاہر ایک دوسری لائن لے لی ہے۔
بعض فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اب بظاہر کئی برسوں کی طویل جنگوں، جانی نقصانات اور بسیار خرابی کے بعد سکیورٹی اداروں کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ شدت پسندی کو قابو سیاسی طریقے سے ہی لایا جاسکتا ہے۔ سال دو ہزار سات میں سکیورٹی اداروں کو جس انداز سے خصوصی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد فوجی حلقوں میں اس بات کی ضرورت سمجھی گئی کہ فوج کو عوام میں اپنی شبیہ درست کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس احساس نے فوج کو نہ صرف قومی سیاسی میدان سے دور رہنے بلکہ شدت پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائی سے بھی قدرے روکا ہوا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے بقول اسی وجہ سے دو ہزار آٹھ میں اس قسم کے شدید اور مسلسل فوجی کارروائیاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف چاہے وہ سوات میں ہوں یا قبائلی علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملیں۔ عسکری امور کے ماہر بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ اس کی وجہ فوج کی ’ کولیٹرل ڈیمج’ یعنی عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنا بتاتے ہیں۔ تو ایسے میں جب فوج سیاستدانوں اور سیاست دان فوج پر صورتحال میں بہتری لانے کی ذمہ داری ڈال رہی ہیں، مسئلے کے حل میں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایک خلاء سا پیدا ہوا ہے جسے یقینا شدت پسندوں نے بھرنے کی کوشش کی ہے اور قبائلی اور سوات کے بیشتر علاقوں میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||