سوات: ملا فضل اللہ کی عام معافی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریکِ طالبان سوات نے صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور بعض بااثر سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات کے علاوہ باقی تمام مطلوب افراد کےلیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان تحریکِ طالبان سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے جمعرات کو اپنے غیر قانونی ایف چینل پر خطاب کے دوران کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تقریباً 120 ’مطلوب‘ افراد کی فہرست بہت جلد جاری کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عام معافی میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکن و عہدیدار، بعض ناظمین و نائب ناظمین اور مختلف گاؤں کے بعض معتبرین شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مطلوب افراد کی ایک فہرست تیار کرنے پر کام شروع کردیا ہے جسے بہت جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔ ان کے بقول ایک اندازے کے مطابق سوات بھر میں انہیں ایک سو بیس کے لگ بھگ افراد مطوب ہیں جن میں صوبائی وزراء، موجودہ اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، کوزہ برہ بانڈہ، چہار باغ، منگلور اور دیگر علاقوں کے بعض بڑے بڑے خوانین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو اس لیے معاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے الزام کے تحت انہوں نے فوجی کارروائی میں حکومت کا ساتھ دیکر ان کی نظر میں ’سنگین جرم‘ کیا ہے۔ یاد رہے کہ سوات میں پچھلے سال فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد درجنوں سیاسی کارکنوں، بااثر شخصیات ، دینی علماء اور معتبرین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ایسی کئی با اثر شخصیات ہیں جنہیں طالبان نے مطلوب قرار دیا ہے اور وہ اس وقت اسلام آباد، پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں سوات میں تشدد جاری، پانچ ہلاک13 January, 2009 | پاکستان سوات، پی پی رکن سمیت چار قتل12 January, 2009 | پاکستان سوات:’موثر فوجی آپریشن کیا جائے‘12 January, 2009 | پاکستان سوات:پانچ حکومتی اہلکار قتل06 January, 2009 | پاکستان سوات سے لاشیں برآمد05 January, 2009 | پاکستان ’ٹارگٹ کلنگ‘، مزید لاشیں برآمد04 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||