سوات: ڈیڑھ لاکھ طالبات کا مستقبل خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اتوار کی شب نامعلوم مسلح افراد نے جس دیدہ دلیری سے کرفیو کے دوران ایک ہی رات میں پانچ سکولوں کو نشانہ بنایا ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ صدر مقام اور مالاکنڈ ڈویژن کے مرکزی شہر مینگورہ میں بھی حکومت کی رہی سہی عمل داری ختم ہوگئی ہے۔ یہ واقعات شہر کے گنجان آباد اور مضافاتی علاقوں میں ایسے وقت پیش آئے ہیں جب مینگورہ شہر سکیورٹی فورسز کے قبضے میں تھا اور وہاں کرفیو بھی نافذ تھا۔ چند ہفتوں سے مینگورہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آئے دن اضافے اور گرین چوک میں، جسے اب ’ خونی چوک‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، روزانہ دو سے تین لاشوں کے ملنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کےلیے رات کا کرفیو نافذ کیا تھا۔ ان انتظامات کے بعد لاشوں کے ملنے کا سلسلہ کچھ حد تو تک کم ہوگیا تھا لیکن شہر میں تشدد کے واقعات برابر جاری ہیں جس میں زیادہ تر عام لوگ مارے جارہے ہیں۔ سوات میں نومبر دو ہز ار سات میں مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں نے علاقے کی تین تحصیلوں مٹہ، خوازہ خیلہ اور کبل پر قبضہ کرکے وہاں اپنا کنٹرول قائم کرلیا تھا۔ تاہم بعد میں فوجی آپریشن اور امن معاہدے کے بعد سکیورٹی فورسز کو دوبارہ ان علاقوں میں تعینات کردیا گیا۔ آجکل سکیورٹی فورسز ان علاقوں میں تعینات تو ضرور ہیں لیکن وہ صرف پولیس تھانوں اور اپنے کیمپوں تک محدود ہیں۔ نہ تو وہ آزادانہ گشت کرسکتے ہیں اور نہ باہر نکل سکتے ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ان کی مثال بظاہر ایسی ہے جیسے وہ عسکریت پسندوں کے نرغے میں آچکے ہوں اور ان پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ سوات میں حکومت کی عمل داری ختم ہونے کی سب سے بڑی مثال لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں پر گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری حملے ہیں جن میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو پچاس سے زائد سکولوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ مبصرین کے نزدیک حیران کن بات یہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں پر حملوں میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے نہ صرف سکیورٹی فورسز کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ ان کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ سرحد حکومت پہلے ہی فوجی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے پر سوات میں تمام سکول دوبارہ کھولے جائیں گے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں شیری رحمان کا یہ بیان بظاہر خواب ہی نظر آتا ہے۔ مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سوات کے دل مینگورہ ہی میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں کرفیو کے دوران سکول تباہ ہورہے ہوں تو شیری رحمان کیسے تعلیمی اداراوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتی ہیں؟ سوات میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ تقریباً آٹھ ماہ سے تب سے جاری ہے جب سے سوات میں امن معاہدہ ختم ہوا ہے لیکن اس میں شدت سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے مکانات اور ٹھکانوں کو دھماکوں میں اڑانے کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔ پہلے ان حملوں میں صرف لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا تھا جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ کہ شاید طالبان صرف لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کی وجہ سے سکولوں کو اڑا رہے ہیں۔ لیکن اب تو یہ تمیز باقی نہیں رہی کیونکہ اب تو ہر اس عمارت کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں طلبہ پڑھتے ہوں چاہے وہ لڑکیوں کے ہوں یا لڑکوں کے، نجی ہو یا سرکاری عمارت ہو۔ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان بھی یہ بات کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے مکانات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو وہ بھی سرکاری املاک پر حملے کرتے رہیں گے۔ تجزیکہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر حکومت کو سوات کی تقریباً ڈیڑھ لاکھ طالبات کا مستقبل عزیز ہے تو اس مسئلے کو حل کرنے کےلیے اسے اپنی حکمت عملی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ | اسی بارے میں سوات: تشدد جاری، تین ہلاک18 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک17 January, 2009 | پاکستان سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان سوات تشدد میں پانچ ہلاک16 January, 2009 | صفحۂ اول ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘16 January, 2009 | پاکستان سوات: طالبان کی ’معافی‘16 January, 2009 | پاکستان لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے تو کیا ہوا!16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||