2008، پاکستان میں بدترین دہشت گردی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق گزشتہ برس بھی پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار رہا اور ان واقعات میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ سرحد جانی نقصان اٹھانے والوں میں سرفہرست رہا ہے اور قبائلی علاقوں، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بڑے علاقوں میں حکومتی رٹ تقریباً ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم ایک عسکری ماہر کا کہنا ہے کہ اس ابتری کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو نئی جمہوری حکومت کی سکیورٹی پر کوئی واضح پالیسی نہ دے سکنا اور دوسرا فوج کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنا تاکہ اس کی شبیہ عوام میں بہتر ہو سکے اور شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی نہ کرنا ہیں۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی پیر کے روز جاری ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات یعنی تقریباً ایک ہزار نو صوبہ سرحد میں ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اب شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں میدان جنگ کا کردار یہ صوبہ ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار آٹھ میں دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں سات سو فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ ’سکیورٹی رپورٹ 2008‘ نامی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان اب تک کی بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز ایک غیرسرکاری غیرمنافع بخش تنظیم ہے۔ یہ تنظیم ماہرین کی مدد سے سیاسی، سماجی اور مذہبی تنازعات پر تحقیق کرتا ہے۔ ادھر اسلام آباد میں ہی کام کرنے والی سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق بھی پچھلے سال دو ہزار سات سے زیادہ خراب حالات رہے۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق اگر ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی آپریشنز، سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں، سیاسی فسادات، فرقہ ورانہ تشدد اور سرحدوں پر ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کو شامل کر لیا جائے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً آٹھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح زخمیوں کی تعداد ساڑھے نو ہزار سے زائد ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ سرحد کے بعد دوسرے نمبر پر بلوچستان آتا ہے جہاں گزشتہ برس چھ سو بیاسی، قبائلی علاقہ جات میں تین سو پچاسی، پنجاب میں پینتیس، سندھ میں پچیس، اسلام آباد میں سات، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چار اور شمالی علاقہ جات میں صرف ایک واقعہ پیش آیا۔ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے سابق سیکریٹری اور عسکری ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے ان رپورٹوں میں حالات میں ابتری کی نشاندی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس نئی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کو ہٹانے جیسے سیاسی مسائل میں ابتدا ہی میں الجھی رہی۔ ان کے مطابق بعد میں پارلیمان نے اس پر اجلاس اور قرارداد بھی تیار کی لیکن اس میں اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے بھی اپنی شبیہ بہتر کرنے کی خاطر شدت پسندوں کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی۔’فوج عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بدنامی سے بچنا چاہتی تھی اور سیاسی حکومت کو کوئی حل تلاش کرنے کا پورا پورا موقع دینا چاہتی تھی‘۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق گزشتہ برس کے دوران تریسٹھ خودکش حملوں میں نو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تاہم ان ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ حملہ آوروں کی جانب سے زیادہ مہلک حربوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس کی ایک مثال میریئٹ ہوٹل پر بارود سے بھرے ٹرک سے حملہ تھا۔ اس کے علاوہ چھیالیس افراد کو ذبح کرنے کے واقعات بھی نوٹ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً چار سو راکٹ حملے، ایک سو سے زائد ریموٹ کنٹرول بموں کے حملے، بارودی سرنگوں کے ایک سو دس، فائرنگ کے ساڑھے چار سو، ثبوتاز کے بھی ایک سو سولہ اور دھماکہ خیز مواد کے ساڑھے تین سو واقعات میں استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ نے نوٹ کیا کہ حکومت کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں بھی کچھ کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں مبینہ طور پر چار ہزار سے زائد تعداد میں افراد گرفتار بھی کیے گئے۔ گرفتار ہونے والوں میں القاعدہ سے مبینہ تعاون کے سلسلے میں تیس، شدت پسند اور جہادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سات سو سے زائد افراد اور ساڑھے تین سو سے زائد بلوچ مزاحمت کار پکڑے گئے ہیں۔ البتہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے بدلے حکومت نے گرفتار مبینہ شدت پسندوں کو رہا بھی کیا گیا ہے۔ سی آر ایس ایس نامی تنظیم کے مطابق سال دو ہزار تین سے آٹھ کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے تیرا ہزار لوگ جانیں کھو چکے ہیں۔ تنظیم کی رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان عراق اور افغانستان میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں دونوں سے آگے ہے۔ تنظیم کے مطابق سوات ضلع شدت پسندی کی آگ میں سب سے زیادہ جلا جہاں گیارہ خودکش حملوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ برس پچھتہر فیصد خودکش حملے صوبہ سرحد یا قبائلی علاقوں میں پیش آئے۔ محمود شاہ نے سنہ دو ہزار نو کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کوئی ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ اس برس عوام کے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوج کی تعیناتی بھی کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||