طالبان کی ویڈیو ٹیپ میں فدائین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے ایک ایسی نئی ویڈیو ٹیپ جاری کی ہے جس میں نہ صرف لاہور میں ایف آئی اے کی بلڈنگ اور راولپنڈی میں آئی ایس آئی کے بس پر پچھلے سال کیے گیے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے بلکہ پہلی مرتبہ ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث خودکش بمباروں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ طالبان کی جانب سے میڈیا کو ’ انتقام‘ کے نام سے جاری کی گئی اس ویڈیو ٹیپ کا دورانیہ تقریباً چالیس منٹ ہے جس میں ہر واردات کے بعد مختلف ٹیلی ویژن چینلز کی جانب سے فلمبند کیے گئے مناظر جبکہ اوپر ایک کونے میں مبینہ خودکش بمباروں کے ریکارڈ شدہ بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ ویڈیو میں پچھلے سال گیارہ مارچ کو لاہور میں مال روڈ پر واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے( ایف آئی اے) کی عمارت، نومبر دو ہزار سات میں آئی ایس آئی کے بس،نو اکتوبر دو ہزار نو میں بھکر میں رکن قومی اسمبلی کی رہائش گاہ اور پچھلے سال تیرہ اگست کو لاہور پولیس ،ستمبر میں ڈی آئی خان کے سول ہسپتال پر ہونے والے خودکش حملوں کے حملہ آور دکھائے گئے ہیں۔ ان تمام حملوں میں لگ بھگ سو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جن میں سرکاری اہلکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث افرادکے نام مسعود، نور اسلم، ابو حمزہ اور صادق اور ذین اللہ بتائے گئے ہیں جنکی عمریں بالترتیب تقریباً چودہ، دو کی بیس بیس، ایک کی بارہ اور تیرہ سال معلوم ہورہی ہیں۔ ایف آئی اے کی بلڈنگ پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث تقریباً چودہ سالہ مسعود نے مبینہ وارادت سے قبل جو بیان ریکارڈ کرایا ہے اس میں اس کا کہنا ہے کہ وہ’ اپنے آپ یا اپنے گھر کے حالات سے تنگ آکر خود کش حملہ نہیں کررہا ہے بلکہ اسلامی جذبے کے تحت وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا ہے‘۔ وہ مزید کہتا ہے کہ’ فلسطین، افغانستان، کشمیر اور عراق میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور مسلمانوں کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے کہ وہ دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کریں اس لیے فدائین( خودکش حملہ آور) مسلمانوں کا ایٹمی پلانٹ ہے‘۔ ویڈیو ٹیپ میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر قاری حسین احمد محسود جنہیں خودکش حملہ آوروں کا ایک اہم تربیت کار سمجھا جاتا ہے کی تقریر بھی شامل کی گئی ہے تاہم انکی تصویر نہیں دکھائی گئی۔ اپنی تقریر میں وہ جہاد اور خودکش حملوں کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اسرائیل، امریکہ اور پاکستانی فوج نے مسلمانوں پر ظلم شروع کررکھا ہے جنکے خلاف’ جہاد‘ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ وہ اجتماع میں موجود درجنوں لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خود کش حملوں اور ’جہاد‘ کے لیے ان کے ساتھ اپنے نام درج کرائیں۔
آخر میں حکومت پاکستان سے دس مطالبات کیے گئے ہیں جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ردعمل میں حملے جاری رکھنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ان مطالبات میں کلعدم قرار دی جانےوالی اہل سنت و جماعت سے پابندیاں ہٹانے، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا خاتمہ، گرفتار شدہ ’ مجاہدین‘ کی رہائی شامل ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ طالبان نے پاکستان کے اندر کی جانے والی کاروائیوں میں حصہ لینے والےمبینہ خودکش حملہ آوروں کی ویڈیو جاری کی ہے۔جبکہ ویڈیو میں جو ’جہادی ترانے‘ شامل کیے گئے ہیں وہ روایت سے ہٹ کر ارود زبان میں ہیں جن میں سے ایک ترانہ ’ کوئی تلاش کرلے مجھکو ۔۔۔۔‘ کالعدم لشکر جھنگوی کے کارکنوں میں بہت مقبول بھی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جو مطالبے کیے گئے ہیں ان پر کالعدم فرقہ ورانہ تنظیم کا رنگ غالب نظر آرہا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم رہا ہے کہ ویڈیو جاری کرکے طالبان کے اندر موجود کالعدم تنظیم کے سرگرم عناصر نے اپنی الگ شناخت قائم کرنی کی کوشش کی ہے۔ | اسی بارے میں خود کش حملہ حرام:فتویٰ تاخیر سے16 October, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے، 30 ہلاک، 160 زخمی11 March, 2008 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان ڈی آئی خان،جنازے پرحملہ 8 ہلاک21 November, 2008 | پاکستان ننگرہار پر حملہ ہم نے کیا، طالبان14 June, 2008 | پاکستان بھکر میں خود کش حملہ، 20 ہلاک09 October, 2008 | پاکستان اسلام آباد: پولیس لائنز میں دھماکہ09 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||