BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 October, 2008, 07:13 GMT 12:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: پولیس لائنز میں دھماکہ

زخمی ہونے والوں میں تین کانسٹیبل اور ایک سب انسپیٹر شامل ہیں
اسلام آباد میں واقع پولیس لائنز میں دھماکہ ہوا ہے جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے سے پندرہ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ پولیس لائنز میں واقع انسدادِ دہشت گردی بیرکس میں ہوا ہے۔پولیس کے مطابق یہ ’خود کش حملہ‘ اس وقت ہوا جب ایک شخص گاڑی پر آیا اور مٹھائی لے کر عمارت کے اندر آگیا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔

پولیس ہیڈکوارٹر پر یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں پارلیمان کامشترکہ اجلاس جاری ہے جس کے لیے شہر بھر میں سیکیورٹی کے کڑے ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔پولیس لائنز اسلام آباد کے سیکٹر ایچ گیارہ میں واقع ہے۔ پولیس لائنز میں رہائشی علاقہ بھی ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ دھماکے سے چند لمحے قبل ایک آدمی سفید رنگ کی کرولا پر بیرک کے سامنے آیا اور اتر کر عمارت کے اندر گیا جہاں اس نے استقبالیہ پر موجود اہلکار کو مٹھائی کے دو ڈبے پکڑائے اور اس دوران دھماکہ ہو گیا۔

آئی جی پولیس کا کہنا ہے اس دھماکے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم دھماکے کے مقام کے ارد گرد معمولی زخمیوں کی تعداد پندرہ سے بیس کے قریب ہے۔

عینی شاہد کانسٹیبل جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ دھماکے میں معمولی نوعیت کے زخمیوں کو پولیس لائنز ہی میں واقع ڈسپنسری لے جایا گیا ہے جب کہ چار شدید زخمیوں کو ہسپتال لے بھیجا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس لائنز میں آپریٹر امانت علی نے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ یہ دھماکہ بیرک نمبر چار میں ہوا ہے جو انسداد دہشت گردی کی خصوصی پولیس کے دستوں کی رہائش کے لیے استمعال ہوتی ہے۔

امانت علی نے بتایا کہ اس عمارت میں تین سو کے قریب پولیس جوان رہتے ہیں لیکن دھماکے کے وقت ان میں سے بیشتر اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں گے اس لیے زیادہ تعداد کے عمارت کے اندر ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ذیشان حیدر کے مطابق اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں تین خمیوں کو لایا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد