بلوچستان، فوجی کارروائی اور بالاچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب خیر بخش مری کے بیٹے میر بالاچ مری نوجوان انجینیئر اور سیاستدان تھے لیکن حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ وہ پہاڑوں پر چلے گئے جہاں بقول ان کے ساتھیوں کے بالاچ مری بندوق پانی اور سیٹلائٹ فون ہر وقت ساتھ رکھتے تھے۔ بالاچ مری پہاڑوں سے پھر واپس کبھی نہیں آئے۔ بلوچستان میں بیس نومبر کے حوالے سے بالاچ کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تعزیتی اجلاس ہوئے ہیں ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن دسمبر دو ہزار پانچ میں کاہان کے علاقے سے شروع ہوا اور پھر تیس دسمبر دو ہزار پانچ میں ڈیرہ بگٹی تک پھیلا دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران چھبیس اگست دو ہزار چھ کو نواب اکبر بگٹی ہلاک ہو گئے۔ بالاچ مری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان اور بلوچستان کی سرحد پر واقعہ علاقہ سرلٹ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے لیکن ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی بمباری سے ہلاک ہوئے لیکن ان دونوں واقعات کی واضح تصدیق نہیں ہو رہی۔
تیرہ دسمبر دو ہزار پانچ کو اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کوہلو کا دورہ کیا تھا اور ان کے دورے کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کے باجود ایسے راکٹ داغے گئے جو اس پنڈال سے کافی دور گرے جہاں پرویز مشرف خطاب کر رہے تھے۔ اس کے بعد سترہ دسمبر سے فوجی کارروائی شروع ہوگئی۔ اس فوجی آپریشن سے کیا حاصل کیا گیا یہ جواب تو شائد ارباب اختیار خود دے سکیں گے لیکن ایک بات واضح ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اب یہ صرف دو اضلاع تک محدود نہیں ہے بلکہ جنوبی بلوچستان کے بیشتر اضلاع تک پھیل چکا ہے۔ فراری کیمپ کتنے تھے اور اب کتنے رہ گئے ہیں اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے لیکن سرکار کا موقف یہی رہا ہے کہ انھوں نے بڑی تعداد میں فراری کیمپ ختم کر دیے ہیں اور بڑی تعداد میں مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔
بالاچ مری کے قریبی ساتھیوں نے بتایا ہے کہ آخری دنوں میں پیدل چل چل کر ان کے پیروں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ بالاچ ہمیشہ اپنے ساتھ بندوق، اسلحہ، پانی اور دور بین ضرور رکھتے تھے۔ اگر سستانے کے لیے کہیں جاتے یا واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آتے تو راستے میں پانی کی بوتلیں رکھتے جاتے۔ ان کے ساتھیوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی جس حالت میں ہے ایسے میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے اس لیے پانی ان کے لیے اشد ضروری ہے اور وہ راستے میں یہ پانی کی بوتلیں استعمال کے لیے لے جا سکتے ہیں۔ بالاچ مری کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ وہ اکثر اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے اور جہاں بھی جاتے کسی کو بتاتے نہیں تھے۔ مریوں اور بگٹیوں کے مابین اختلافات دور کرنے میں بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ نے اہم کردار ادا کیا۔ نواب اکبر بگٹی بھی بالاچ مری کی عزت کرتے تھے۔ | اسی بارے میں بالاچ مری کی برسی پر دھماکے20 November, 2008 | پاکستان بالاچ کی پہلی برسی19 November, 2008 | پاکستان بلوچ جنگجوؤں کی سی ڈیوں کی مقبولیت03 October, 2008 | پاکستان نواب مری، بیٹے، آٹھ مقدمات واپس29 September, 2008 | پاکستان زرداری کی گزین مری سے ملاقات15 September, 2008 | پاکستان بلوچستان: بھاری حمایت کا دعویٰ11 August, 2008 | پاکستان ’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان بالاچ کی تدفین افغانستان میں 23 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||