BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 01:34 GMT 06:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان، فوجی کارروائی اور بالاچ

بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی
بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کو ایک دوسرے کے قریب سمجھا جاتا تھا
نواب خیر بخش مری کے بیٹے میر بالاچ مری نوجوان انجینیئر اور سیاستدان تھے لیکن حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ وہ پہاڑوں پر چلے گئے جہاں بقول ان کے ساتھیوں کے بالاچ مری بندوق پانی اور سیٹلائٹ فون ہر وقت ساتھ رکھتے تھے۔ بالاچ مری پہاڑوں سے پھر واپس کبھی نہیں آئے۔

بلوچستان میں بیس نومبر کے حوالے سے بالاچ کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تعزیتی اجلاس ہوئے ہیں ۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن دسمبر دو ہزار پانچ میں کاہان کے علاقے سے شروع ہوا اور پھر تیس دسمبر دو ہزار پانچ میں ڈیرہ بگٹی تک پھیلا دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران چھبیس اگست دو ہزار چھ کو نواب اکبر بگٹی ہلاک ہو گئے۔

بالاچ مری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان اور بلوچستان کی سرحد پر واقعہ علاقہ سرلٹ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے لیکن ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی بمباری سے ہلاک ہوئے لیکن ان دونوں واقعات کی واضح تصدیق نہیں ہو رہی۔

فوجی آپریشن کی افادیت
 اس فوجی آپریشن سے کیا حاصل کیا گیا یہ جواب تو شائد ارباب اختیار خود دے سکیں گے لیکن ایک بات واضح ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اب یہ صرف دو اضلاع تک محدود نہیں ہے بلکہ جنوبی بلوچستان کے بیشتر اضلاع تک پھیل چکا ہے
فوجی آپریشن کی وجوہات بلوچستان کے ان دو اضلاع میں فراری کیمپوں کی موجودگی قرار دیا گیا اور سرکار کے مطابق ان فراری کیمپوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو قومی تنصیبات پر حملے کیا کرتے تھے۔

تیرہ دسمبر دو ہزار پانچ کو اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کوہلو کا دورہ کیا تھا اور ان کے دورے کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کے باجود ایسے راکٹ داغے گئے جو اس پنڈال سے کافی دور گرے جہاں پرویز مشرف خطاب کر رہے تھے۔ اس کے بعد سترہ دسمبر سے فوجی کارروائی شروع ہوگئی۔

اس فوجی آپریشن سے کیا حاصل کیا گیا یہ جواب تو شائد ارباب اختیار خود دے سکیں گے لیکن ایک بات واضح ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اب یہ صرف دو اضلاع تک محدود نہیں ہے بلکہ جنوبی بلوچستان کے بیشتر اضلاع تک پھیل چکا ہے۔

فراری کیمپ کتنے تھے اور اب کتنے رہ گئے ہیں اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے لیکن سرکار کا موقف یہی رہا ہے کہ انھوں نے بڑی تعداد میں فراری کیمپ ختم کر دیے ہیں اور بڑی تعداد میں مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔

بندوق، پانی، دوربین
 ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ بالاچ ہمیشہ اپنے ساتھ بندوق، پانی اور دور بین ضرور رکھتے تھے۔ اگر سستانے کے لیے کہیں جاتے یا واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آتے تو راستے میں پانی کی بوتلیں رکھتے جاتے
بالاچ مری انیس سو چھیاسٹھ میں پیدا ہوئے اورابتدائی تعلیم کوئٹہ میں حاصل کرنے کے بعد اپنے والد نواب خیر بخش مری جب خود جلا وطن ہوئے تو بالاچ بھی ان کے ساتھ افغانستان چلے گئے۔ افغانستان میں میٹرک کے بعد ماسکو سے انجینیئر نگ کی ڈگری حاصل کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ وطن سے باہر چلے گئے اور اپنی غیر موجودگی میں انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے لیکن صرف ایک ہی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے اس کے بعد وہ کبھی اسمبلی نہیں آئے اور ناں ہی ان کی رکنیت منسوخ کی گئی۔

بالاچ مری کے قریبی ساتھیوں نے بتایا ہے کہ آخری دنوں میں پیدل چل چل کر ان کے پیروں پر چھالے پڑ گئے تھے۔

ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ بالاچ ہمیشہ اپنے ساتھ بندوق، اسلحہ، پانی اور دور بین ضرور رکھتے تھے۔ اگر سستانے کے لیے کہیں جاتے یا واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آتے تو راستے میں پانی کی بوتلیں رکھتے جاتے۔ ان کے ساتھیوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی جس حالت میں ہے ایسے میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے اس لیے پانی ان کے لیے اشد ضروری ہے اور وہ راستے میں یہ پانی کی بوتلیں استعمال کے لیے لے جا سکتے ہیں۔

بالاچ مری کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ وہ اکثر اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے اور جہاں بھی جاتے کسی کو بتاتے نہیں تھے۔ مریوں اور بگٹیوں کے مابین اختلافات دور کرنے میں بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ نے اہم کردار ادا کیا۔ نواب اکبر بگٹی بھی بالاچ مری کی عزت کرتے تھے۔

اسی بارے میں
بالاچ مری کی برسی پر دھماکے
20 November, 2008 | پاکستان
بالاچ کی پہلی برسی
19 November, 2008 | پاکستان
زرداری کی گزین مری سے ملاقات
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد