BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2008, 18:58 GMT 23:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاچ کی پہلی برسی

بالاچ مری، اکبر بگٹی

بلوچ قوم پرست رہنما میر بالاچ مری کی پہلی برسی بدھ سے منائی جا رہی ہے اور اس کی تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔

اس حوالے سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلسے ریلیاں اور ہڑتال کی گئی ہے۔ ریلیوں میں بلوچ مسلح تنظیمیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ دو روز میں کوئٹہ میں تین مختلف واقعات میں دو افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں بدھ کو ایک بڑا جلسہ نیو کاہان کے علاقے میں منعقد کیا گیا جس سے مری اتحاد اور بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا ہے۔

کوئٹہ شہر سے مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے ریلیاں نکالیں جن میں سیاسی کارکن اپنی اپنی جماعت اور تنظیم کے پرچم اٹھائے نعرہ بازی کرتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچے ہیں۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما قادر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچوں کی یہ تحریک اپنے منتقطی انجام تک ضرور پہنچے گی اور جس مقصد کے لیے قربانیاں دی جا رہی ہیں انہیں ہر حالت میں حاصل کیا جائے گا۔
اس ریلی میں پانچ قرار دادیں منظور کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت تمام ممالک بلوچ مسلح تنظیموں جیسے بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور دیگر کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج کریں اور بلوچ قائدین کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیر تعلیم نے کل یعنی جمعرات کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اللہ یار میں کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی تھی۔ کوہلو میں گزشتہ روز سے سکیورٹی فورسز نے آنے جانے والوں کی سخت چیکنگ شروع کر رکھی ہے۔

نواب خیر بحش مری کے بیٹے بالاچ مری کو گزشتہ سال بیس نومبر کو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے سرلٹ میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دریب اثنا کوئٹہ میں صبح اور گزشتہ رات ٹارگٹ کلنگ کے تین مختلف واقعات میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ ہمایوں جوگیزئی کا کہنا ہے کہ پولیس نے کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں دو کا تعلق پنجاب سے تھا ان میں ایک سرکاری ملازم تھا جب کہ ایک درزی کا کام کرتا تھا۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

اسی بارے میں
بالاچ مری کے لیے قرآن خوانی
30 November, 2007 | پاکستان
میر بالاچ مری ہلاک، ہنگامے
21 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد