نواب مری، بیٹے، آٹھ مقدمات واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت نے نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کے خلاف قائم نو مقدمات میں سے آٹھ واپس لے لیے ہیں۔ وزیر اعلٰی سیکریٹیریٹ سے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلٰی نواب اسلم رئیسانی نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کے خلاف قائم کیے گئے نو مقدمات میں سے آٹھ مقدمات واپس لے لیے ہیں جبکہ ایک مقدمہ جسٹس نواز مری قتل کا ہے جس میں دوسری پارٹی شامل ہے اس لیے وہ مقدمہ واپس نہیں لیا گیا ہے۔ نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کے وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹے حیر بیار مری، بالاچ مری اور گزین مری پر چار مقدمات بارکھان اور کوہلو میں قائم کیے گئے تھے جو دھماکہ خیز مواد اور اغوا کے بارے میں تھے جن میں نواب خیر بخش مری کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تین سال پہلے یہاں کوئٹہ کے قریب مری کیمپ پر چھاپوں کے دوران گرفتاریاں کی گئی تھیں جن میں نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کو بھی مقدمات میں شامل کیا گیا تھا۔ ساجد ترین کے مطابق کچھ مقدمات میں سرکار نے اعلٰی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ اب یہ معلوم نہیں ہے کہ سرکار نے کون کون سے مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ نواب خیر بخش مری کو جسٹس نواز مری قتل کیس میں بارہ جنوری سنہ دو ہزار میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اٹھارہ ماہ تک کوئٹہ جیل میں رہے اس کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ نواب خیر بخش مری کے بیٹے گزین مری ان دنوں دبئی میں ہیں۔ انھوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقدمات کے واپس لینے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ سب مقدمات بد نیتی پر قائم کیے گئے تھے اور ان میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ یہ سب پاکستان پیپلز پارٹی کی مفاہمتی پالیسی کا حصہ ہے۔ یاد رہے کوئی دو ہفتے قبل گزین مری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ملاقات دبئی میں ہوئی تھی جس میں بلوچستان کے معاملات پر بات چیت کی گئی تھی۔ اس سے پہلے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ گزین مری جلد ہی پاکستان واپس آجائیں گے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل کے خلاف بھی قائم تمام مقدمات واپس لے لیے تھے اور انھیں کراچی جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں خیابانِ سحر کا خاموش مری11 December, 2007 | پاکستان ’اور کوئی مزاحمت کار سامنے آجائیں‘22 November, 2007 | پاکستان ’مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں‘ 04 August, 2007 | پاکستان ’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||