’مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے قوم پرست رہنما اور مری قبیلے کے سردار خیر بخش مری نے کہا ہے کہ مظلوم اور کمزور ہمیشہ مذاکرات ہی چاہتے ہیں مگر حکومت جس طرح چاہتی ہے اس طرح مذاکرات نہیں ہوں گے۔ کراچی میں رہائش پذیر بزرگ رہنما نواب خیر بخش مری نے بی بی سی اردو کو دیےگئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ سادہ کپڑوں میں تعینات اہلکار ان کے پاس آنے والوں اور مری قبیلے کے لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں، ان سے شناختی کارڈ کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے اور ڈرانے دھمکانے کے علاوہ بدسلوکی بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس تمام کارروائی کے اسباب سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ’اگر رازق بگٹی کے قتل کے بعد یہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ تو شاید مجھے بلوچستان لبریشن آرمی سے ملاتے ہیں اس لیے ہو سکتا تھا کہ بی ایل اے کا یہ ہنرمندانہ واقعہ انہیں برا لگا ہوگا مگر لوگوں کو ہراساں کرنے کا عمل رازق کے قتل سے پہلے سے جاری تھا‘۔ واضح رہے کہ رازق بگٹی بلوچستان حکومت کے ترجمان تھے جنہیں کچھ روز قبل قتل کیا گیا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی نے اس کی ذمے داری قبول کی تھی۔ حکومت کی جانب سے بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے مذاکرات کے بارے میں نواب مری کا کہنا تھا کہ’ کمزور کبھی یہ نہیں کہتا کہ وہ بندوق اٹھا کر لڑے گا وہ تو کہتا ہے کہ مجھ سے دلیل کے ساتھ بات کریں ، بندوق تو وہ اٹھاتا ہے جو طاقتور ہے، کمزور جب دیکھتا ہے کہ اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اس لیے وہ اپنی زندگی داؤ پر لگاتا ہے‘۔ نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ حکمران چاہتے ہیں کہ ہم ( بلوچ سردار ) مذاکرات کے لیے ان کے پاس دوڑ کر جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوگا اور’اگر سردار عطا اللہ مینگل جائےگا تو پوچھےگا خیر بخش کیا کہتا ہے، اگر خیر بخش جائےگا تو بگٹی سے پوچھے گا کہ وہ کیا کہتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’مذاکرات کی باتیں ایسے نہیں کہی جاتیں کہ ہم قوم پرستوں سے بات کریں گے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس سے ہوں گے ؟ جو سامنے نظر آرہے ہیں ان سے یا جو انڈر گراونڈ ہیں ان سے بھی بات ہوگی‘۔ نواب مری کا کہنا تھا کہ حکمران کھلے لفظوں میں یہ کہیں کہ خیربخش ، عطااللہ اور دیگر سے مذاکرات کریں گے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ اب بات زیادہ آگے نکل گئی ہے اس لیے وہ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ الیکشن فائدہ مند نہیں ہیں اس لیے وہ اور ان کا قبیلہ اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں کوئی رہا ہی نہیں ہے اس لیے کوئی کیا الیکشن لڑے گا۔’وہ تو سب بی ایل اے بنا دیےگئے ہیں۔ سرکار ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اس قدر کہ بیٹیوں اور بچیوں کو بھی بی ایل اے میں شامل کر دیا گیا ہے‘۔ نواب مری کے مطابق جس ملک سے وہ چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے الیکشن میں حصہ لیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان اسمبلیوں سے کچھ بہتری آئےگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چاہے حکومت تبدیل ہو یا سربراہ مملکت مگر بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ بلوچوں کی جدوجہد صرف آزادی کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں خیر بخش مری عدالت سے بری30 July, 2006 | پاکستان پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بعد کس کی باری ہے؟31 August, 2006 | پاکستان مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری31 August, 2006 | پاکستان ’خفیہ اداروں سے ٹکر نہ لینا‘25 October, 2006 | پاکستان بلوچ جرگہ کے فیصلے کی حمایت17 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||