BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیابانِ سحر کا خاموش مری

نواب خیر بخش مری
نواب مری نے کئی برس بعد لوگوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا ہے
وہ جمعہ کی دوپہر تھی جب ہم مطلوبہ پتہ پوچھتے پوچھتے خیابانِ سحر کی چوتھی گلی میں پہنچے۔ ٹیکسی سے اتر کر جب میں نے جاوید مینگل کے گھر کا مرکزی دروازہ دیکھا تو صرف چار افراد باہر پڑے سیمنٹ کے بنچوں پر بیٹھے تھے۔ کوئی مسلح آدمی نہیں تھا نہ ہی کوئی چیک پوسٹ موجود تھی۔

میں نے سوچا کیا اسی گھر میں بلوچستان کا وہ ’باغی‘ سردار رہائش پذیر ہے جس کے ماسواء ایک باقی تمام بیٹوں پر بلوچستان لبریشن آرمی نامی تنظیم کے تحت مسلح جدوجہد جاری رکھنے کا الزام ہے۔

میں اور میرے ساتھی عبدالحئی کاکڑ جب مرکزی دروازے سےاندر داخل ہوئے تو ملازمین نے میرے ہاتھ میں پکڑے بیگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا’یہ سامان باہر رکھ دیں، نواب صاحب بات کرنے پر آمادہ ہوتےہیں تو آپ کو کمرے کےاندر سامان مل جائےگا‘۔

جدید طرز تعمیر کے بنگلے کے سرسبز باغیچے میں بلوچی انداز کا خیمہ ایستادہ تھا۔ خیمے کےاندر درجن بھر لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ چند ہی لمحوں بعد ہمیں اس کمرے میں بلایا گیا جہاں نواب خیر بخش مری کئی برسوں کی خاموشی کے بعد ایک طرح کی بیٹھک لگا کر ملنے والوں سے بات چیت کرتے ہیں۔

نواب مری کے کشادے کمرے کے اندر بھی ایک طرح کا بلوچستان بسا ہوا تھا۔ کمرے کے دو نمایاں کونوں میں پڑے چھوٹے پہاڑی ٹکڑوں پر دو بھس بھرے پہاڑی ہرن کھڑے تھے۔ ایک مری نوجوان کا کہنا تھا کہ’ کسی کے دل میں بسا بلوچستان کون چھین سکتا ہے‘۔

 آج جب کہ پاکستان کے اکثر قبائلی سردار آئندہ انتخابات کے لیے اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بھانجے اور بھتیجوں کے لیے انتخابی مہم میں مصروف ہیں وہیں نواب مری جیسا بااثر بلوچ سردار اپنے بیٹوں کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

کشادہ کمرےکے ایک کونےمیں مخصوص صوفے پر نواب خیربخش مری بیٹھے ہوئے تھے جبکہ کمرے کےاندر مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے بیس کےقریب افراد فرش پر بیٹھے ان کی باتیں سن رہے تھے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ لوگ ان کے ساتھ بالاچ مری کے غم میں شریک ہونے آئے تھے کیونکہ ابھی تک نواب مری نے بالاچ کے لیے تعزیت وصول نہیں کی۔

جہاں سندھی ٹوپی اوڑھے باریش نواب خیر بخش مری کے چہرے پر غم یا پریشانی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے وہیں قریباً ستر برس کی عمر میں بھی بلوچستان کے حوالے سے ان کی باتوں میں کوئی لچک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

وہ بڑی روانی سے اپنے قبیلے کےلوگوں اور مہمانوں کےساتھ محو گفتگو رہے۔ نواب مری اگرچہ دورانِ گفتگو ماضی کی باتیں اور بلوچی لطیفے سناتے ہوئے خود بھی ہنستے رہے مگر بالاچ اور حربیار کی باتیں شروع کرنے سےگریز ہی کیا۔

ابھی تک نواب مری نے بالاچ کے لیے تعزیت وصول نہیں کی ہے

اگر کسی نے ذکر چھیڑ بھی دیا تو انہوں نے کئی باتوں سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ وہ خود بالاچ کی ہلاکت کی تصدیق کےانتظار میں ہیں اور حربیار کی گرفتاری کا انہیں اتنا ہی علم ہے جتنی باتیں ذرائع ابلاغ میں آ چکی ہیں۔

اندرون سندھ سے نواب خیربحش کے ساتھ ملنے کے لیے آئے ایک مری نوجوان نے بتایا کہ کئی لوگ نواب صاحب کے پاس اب بھی تعزیت کےلیے آ رہے ہیں مگر نواب صاحب دعا کے لیے ہاتھ ہی نہیں اٹھا رہے تو دوسرے کیا کریں۔

جب بینظیر بھٹو نواب مری سے تعزیت کرنے آئیں تو انہوں نے ان سے بھی تعزیت قبول کرنے سے انکار دیا اور ایک صحافی دوست کے مطابق دورانِ گفتگو بینظیر کے یہ کہنے پر کہ’ آمریت کےدنوں میں ایسے واقعات ہوتے ہیں‘، نواب مری نے جواباً کہا کہ ’آپ کے والد ذوالفقار بھٹو کے دوراقتدار میں بھی بلوچوں کے ساتھ کوئی کم مظالم نہیں ہوئے‘۔

جب نواب مری بلوچوں کی مسلح جدوجہد اور پنجاب کی حاکمیت جیسے سخت موضوعات پر نرم لہجے میں باتیں کر رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ بلوچستان کے بوڑھے باغی پاکستانی فوج کے لیے کیوں کر قابل قبول ہوں۔

نواب مری ایک مارکسسٹ بلوچ قوم پرست ضرور ہیں مگر ان کی کوئی جماعت نہیں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان کے اندر وہ تنہا بھی نہیں ہیں۔

بینظیر بھٹو بھی نواب مری سے ان کے بیٹے کی تعزیت کے لیے گئی تھیں

جوانی میں سکوائش کھیلنےاور نشانہ بازی کے شوقین نواب بخش مری کی زندگی کا بیشتر حصہ دربدر اور مہاجروں کی طرح گزرا ہے۔ وہ کبھی کابل میں تو کبھی مری کیمپ اور آج کل خیابان سحر میں ’بےوطنی‘ کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

آج جب کہ پاکستان کے اکثر قبائلی سردار آئندہ انتخابات کے لیے اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بھانجے اور بھتیجوں کے لیے انتخابی مہم میں مصروف ہیں وہیں نواب مری جیسا بااثر بلوچ سردار حالت جنگ میں اپنے بیٹوں کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

کیا بلوچ پاکستان کو الوداع کہہ چکے ہیں؟ اس سوال کاجواب خیابان سحر کے خاموش مری نواب کے پاس اکثر اوقات جانے والےافراد کے پاس جن کا کہنا ہے کہ ’بلوچوں کے لیے یہ فائنل راؤنڈ ہے‘۔

کئی برسوں سے نواب خیربخش مری خاموشی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کی ملاقات محدود لوگوں سے ہوتی تھی مگر بالاچ کی ہلاکت کے بعد وہ لوگوں سے مل جل رہے ہیں۔ اسی دوران حربیار کی گرفتاری کی خبر بھی پہنچی ہے۔ کہتے ہیں کہ میل ملاقات سے دل کا بوجھ کچھ کم ہوتا ہے مگر کیا یہ کہاوت نواب مری پر صادق آتی ہے کچھ کہنا مشکل ہے۔ کیونکہ ان کی باتوں میں حالات سے گھبرائے ہوئے بوڑھے سردار جیسی کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔

کتاب کا سر ورقبلوچ تاریخ کا ورق
’مری بلوچ جنگِ مزاحمت‘ کے کتنے جنم
براہمداغ بگٹیبراہمداغ کی تردید
’اگرمیرا کوئی بھائی تھا توبالاچ تھا‘
بالاچحکومت کہتی ہے۔۔۔
’شخصی اختلافات ہلاکت کی ممکنہ وجہ‘
بالاچ مریسلسلہ جاری ہے
بالاچ مری: ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘
بالاچ مریکاہان کا بالاچ
بلوچ مزاحمت کی ایک اور علامت قربان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد