BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مری بلوچ جنگِ مزاحمت‘

کتاب کا سر ورق
نئے پیش لفظ کے ساتھ دوسرے ایڈیشن کی شکل میں 2007 میں یہ کتاب چوتھا جنم لیتی ہے
ایک ایسی نادر کتاب جو اب تک آواگون کے جنم جنم سے گزرتے ہوئے اپنے مقصد کے پورا ہونے کے انتظار میں ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ 1839-1840 میں برطانوی فوج کا ایک کپتان لیوس براؤن مری بلوچوں کے پہاڑی علاقے کاہان کے قلعہ پر قبضہ کرنے کے لئے اپنی فوجوں(چھ سو اونٹوں اور ایک توپ کے ساتھ پیش قدمی کرتا ہے)۔

قبضہ کر لینے کے بعد پانچ ماہ تک قلعہ میں محصور رہنے اور مدد کو آنے والی تمام رسد، فوجیوں اور توپوں کی مری بلوچوں کے ہاتھوں تباہی کے بعد بالآخر مری سردار دودا خان سے قلعہ خالی کرنے اور جان بخشی کا معاہدہ طے کر کے بحفاظت بچی کچھی فوج کے ساتھ اپنے ہیڈ کوارٹر تک جا پہنچتا ہے۔

برطانوی فوجی افسر اس عرصے میں اپنی ڈائری میں وہ تمام واقعات تحریر کرتا ہے جو 20 اپریل 1839ء سے شروع ہو کر30 ستمبر1839ء تک پیش آتے ہیں۔

ڈائری کی چند سطور بتاتی ہیں ’اس دستے کے ساتھ مجھے چھ سو اونٹ بھی لے جانے تھے۔ یہ چار ماہ کا راشن اور سازوسامان تھا۔لیفٹیننٹ کلارک کو اسّی پیادوں اور 50 گھڑ سواروں کی حفاظت میں خالی اونٹ واپس لے جانے تھے اور مزید چار ماہ کا راشن لانا تھا۔ میں نے بہت جلدی میں سکھرچھوڑا تھا۔ پندرہ اپریل کے قریب موسم بہت گرم ہوگیا اور دوپہر کے وقت میرے خیمے کے اندر تھرما میٹر 112 درجے تک پہنچتا تھا۔ اس گرمی کے نتیجے میں کچھ لوگ بیمار پڑ گئے۔ لیفٹیننٹ ارسکائن اور ٹیلر دونوں کو بخار ہو گیا اور ایک صوبیدار مر گیا‘۔

اس طرح یہ کتاب مری کے پہاڑوں میں پہلا جنم لیتی ہے۔ کیپٹن لیوس براؤن کی واپسی پر یہ روزنامچہ 10اپریل 1841ء میں بمبئی حکومت اور گورنرکے علم میں آتا ہے۔ بحکمِِ سرکار اس رسالے کو بمبئی گورنمنٹ پریس سے چھپوا کر دیگر سرکاری مُسوّدوں کے ساتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ کتاب جو مری پہاڑوں میں پیدا ہوئی، بمبئی میں اسے باقاعدہ لباس پہنا کر کم از کم عزت تو بخشی گئی۔

پ

’میرا دشمن میرا محسن‘
 سطور۔۔۔۔۔’میں اس کتاب کے مصنف کی بہت قدر کرتا ہوں گو کہ وہ ایک قاتل تھا، غاصب تھا مگر پھر بھی میرے آباؤ اجداد کا یہ قاتل میرا مُحسن ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ سب کچھ نہ لکھتا تو مجھ سے میری تاریخ کا ایک بہت خوبصورت حصہ گُم ہو چُکا ہوتا‘۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری
پینتالیس سال گزرنے کے بعد لندن میں چارلس رینالڈ ویلیم (جس کا اپنا بھائی بھی اٌس جنگ میں مارا گیا تھا) کے ایک دوست نے پرانی کتابوں کی دکان سے وہ رسالہ، جسکا نام ’پانچویں بمبئی نیٹِو اِنفنٹری رجمنٹ کے کپتان لیؤس براؤن کے مّری پہاڑوں کے چکر اور کاہان میں نظر بندی سے متعلق رف نوٹس‘ خود کیپٹن لیوِس براؤن نے رکھا تھا، خرید کر چارلس تک پہنچایا۔

چارلس رینالڈ ویلیم نے اپنے بھائی کے بھیجے گئے خطوط اور اس روزنامچہ کی تفصیلات اور واقعات کو ایک تسلسل سے ملا کر اس تاریخ کو پھر سے ایک خوبصورت کتاب کی شکل دی جسکا نام ’ڈیفینس آف کاہان‘ رکھا۔

مؤلف نے اس واقعہ کو برٹش افواج کے اس دور کے مشہور واقعات میں سے ایک اہم واقعہ بتا کر اسکا کابل،جلال آباد، لیوسٹاپول، ہندوستانی فوج کے غدر(برِصغیر میں جنگِ آزادی) اور خرطوم کی جنگ کے واقعات سے موازنہ کیا ہے۔ یہ شاید اس کتاب کا دوسرا جنم تھا۔

دسمبر 1988ء میں لندن سکول آف اورئینٹل اینڈ افریقن سٹیڈیز کی لائبریری میں کوئٹہ کے عبداللہ جان جمالدینی اپنے ایرانی نژاد بلوچ دوست ہوشنگ کے ہمراہ نایاب بلوچی اور فارسی ادبی نسخوں کی تلاش میں گھومتے پھرتے اس کتاب پر جا رکتے ہیں جو شاید اس سرزمین تک پہنچنے کے انتظار میں تھی جہاں اس نے جنم لیا تھا۔

لائبریرین کی مہربانی سے عبداللہ جان جمالدینی، کتاب کی کچھ نقول اپنے ہمراہ کوئٹہ لاتے ہیں اور اس خاص تحفے کو، جس میں خود انگریز بہادر اپنی شکست اور بلوچوں کی بہادری اور قول پر کاربند رہنے کا اعتراف کرتا ہے، دوستوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری اسے اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ کر کے اسے زبان زدِ عام کیا جائے۔ تعارفی الفاظ میں عبداللہ جان جمالدینی اس تاریخی کتاب میں واقعات اور حالات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انگریزی فوج کی افغانستان اور ریاستِ قلات پر لشکر کشی کے واقعات کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

بہر حال ڈاکٹر شاہ مُحمد مری اپنے بڑے بھائی مِیرو خان اور مِیر عالم کی حوصلہ افزائی سے 29 جنوری 1992ء میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اپنے پیش لفظ کے ساتھ مارکیٹ میں بھجتے ہیں۔

کتاب ’ڈیفینس آف کاہان‘ تیسرا جنم لیتی ہے اور نام رکھا جاتا ہے ’مری بلوچ جنگِ مزاحمت‘۔ پیش لفظ کی کچھ سطور۔۔۔۔۔’میں اس کتاب کے مصنف کی بہت قدر کرتا ہوں گو کہ وہ ایک قاتل تھا، غاصب تھا مگر پھر بھی میرے آباؤ اجداد کا یہ قاتل میرا مُحسن ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ سب کچھ نہ لکھتا تو مجھ سے میری تاریخ کا ایک بہت خوبصورت حصہ گُم ہو چُکا ہوتا‘۔

کتاب ’مری بلوچ جنگِ مزاحمت‘ ایک بار پھر اپنا مقصد پورا کرنے ایک نیا جنم، ایک نیا نام لئے دنیا میں آئی اور 1992 میں مارکیٹ میں آتے ہی گم کر دی گئی جسکا کوئی سراغ کوئی نقشِ پا نہیں مل سکا۔

نجانے کیوں اس بار وقت کے حاکموں نے کتاب کا گلا گھونٹ کر اسے مار دینے کا فیصلہ کیا۔ شاید کتاب کا بلوچ نام انھیں پسند نہیں آیا، مگر تاریخ مُصر تھی کہ وہ زندہ رہے گی۔

پندرہ سال کے بعد لاہور میں وجاہت مسعود کی لائبریری میں اس کتاب کی موجودگی کی اطلاع ڈاکٹر شاہ محمد مری کے لئے اُس کھتونی(جائیداد کے کاغذات) کے ملنے کے مترادف تھی جو میلے میں گم ہو گئی ہو۔

دوستی کے فرائض بھی عجیب ہوتے ہیں، وجاہت مسعود کی جانب سے کمپیوٹر سے نئی ٹائپ شدہ اور آرٹسٹ حمید بلوچ(شاستری) کے نئے ٹائٹل کے ساتھ چھ دن بعد یہ کتاب ڈاکٹر شاہ محمد مری کی ٹیبل پر موجود تھی۔

نئے پیش لفظ کے ساتھ دوسرے ایڈیشن کی شکل میں 2007 میں یہ کتاب چوتھا جنم لیتی ہے اور ایک بار پھردنیا کو ماضی کے واقعات، وطن کا دفاع اور دشمن کے ساتھ کیے گئے قول کی پاسداری کرنے والے اُن بلوچ کرداروں کی داستانِ شجاعت سُناتی ہے جو تقریباً ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی بلوچستان کے پہاڑون میں اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں دشمن انگریز تھا اور آج اُنکا دشمن پاکستان آرمی ہے۔

شخصیت و حالات
بلوچستان کا نواب اکبر بگٹی امر ہو گیا؟
بلوچستان تنازع
’صدر پرویز مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘
سردار منگل’مسئلہ سادہ سا ہے‘
’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘
اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
بلوچرپورٹر کی ڈائری
’بی ایل اے سے میرا رابطہ 7 برس قبل ہوا‘
ویب سائٹویب سائٹ پر دعویٰ
جلاوطن حکومت اور بلوچوں کی تردید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد