BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 October, 2008, 01:11 GMT 06:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ جنگجوؤں کی سی ڈیوں کی مقبولیت

بلوچ جنگجو
وہ سی ڈیاں بے گھر ہونے والے بلوچوں میں مقبول ہو رہی ہیں
یہ ستمبر میں جمعہ کا دن تھا جب سندھ میں مزدور چھٹی پر ہوتے ہیں۔ضلع خیرپور کے دیہی علاقوں میں وہ بلوچ جمع ہو رہے تھے جنہیں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خوف کی وجہ سے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔ وہ غنی بگٹی کے پاس ایک فلم دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

میزبان نے ٹی وی اور سی ڈی پلیئر قریبی شہر سے کرائے پر حاصل کیے تھے۔گھاس پھوس کی بنی بیٹھک میں جب دس کے قریب لوگ پہنچ گئے تو انہوں نے پولیس کے آنے والے راستوں پر ایک نظر ڈال کر اطمینان کیا اور فلم شروع کی۔

وہ انڈین فلم دیکھنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے۔ ان کی دلچسپی بلوچ گوریلوں کی تربیت پر بنائی گئی فِلم میں تھی جو سمگل ہو کر ان تک پہنچی تھی۔

بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور بلوچ قوم پرستوں کے موضوع پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم ’دی بلوچ بیٹل فیلڈ‘ تو انہوں نے نہیں دیکھی مگر وہ سی ڈیاں بے گھر ہونے والے بلوچوں میں مقبول ہو رہی ہیں جو بلوچ جنگجؤں پر بنی ہیں۔

مقبول سی ڈیاں
 سندھ اور پنجاب کے دربدر بگٹیوں اور مری بلوچوں میں وہ انڈر گراؤنڈ سی ڈیاں زیادہ مقبول ہورہی ہیں جن میں بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ برہمداغ بگٹی کو اپنی جماعت کے نئے پرچم اور کلاشنکوف سمیت دکھایا گیا ہے۔ ان سی ڈیوں میں نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی تصاویر بار بار تب دکھائی جاتی ہیں جب آڈیو میں ’شہیدوں کے کفن نہ بیچ دینا‘ جیسے نغمے دیئے گئے ہیں
بلوچ مزاحمت کی سی ڈیاں بالائی سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کےان شہروں میں زیادہ مقبول ہیں جہاں بلوچستان کے مہاجرین کی اکثریت نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کے بعد پناہ لے رکھی ہے۔

بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے پس منظر میں بنائی گئی یہ سی ڈیاں کسی عام دوکان سے تو نہیں مل سکتی مگر ان بےگھر بلوچوں کے پاس ہفتوں اور مہینوں کے انتظار کے بعد اپنے ذرائع سے پہنچ جاتی ہیں۔ جو پھر مقامی کارکن کی جھونپڑی میں بڑے شوق سے دیکھی جاتی ہیں۔

بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے بنائی گئی ان سی ڈیوں میں نغمے ایڈٹ کیے ہوئے ہیں جو بقول غنی بگٹی ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

ایک دو منٹ کی مختصر ویڈیو کلپ جو سکھر، حیدرآباد اور رحیم یار خان کی موبائل مارکیٹوں میں کھلے عام ڈاؤن لوڈ کیا جا رہا ہے وہ اپنے آپ کو بلوچ ریپبلکن آرمی کہنے والے جنگجؤں کی تربیت پر مشتمل ہے۔

اس ویڈیو کلپ پر مقبول انڈین فلمی گانا ’وطن والو وطن نہ بیچ دینا، شہیدوں کےکفن نہ بیچ دینا‘ لگایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بعض غیر بلوچ نوجوانوں نے بھی اپنے موبائل سیٹ میں اس ویڈیو کلپ کو ڈاؤن لوڈ کروا لیا ہے۔

سی ڈیوں کا موضوع
 ان سی ڈیوں میں جب بلوچوں کے دشمن کا ذکر کیا جاتا ہے تب پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی فوجی وردی والی تصویر دکھائی جاتی ہے اور جب ’چار کنڈان (چاروں طرف) نے کافران لشکر‘ کہا جاتا ہےتب پاکستان فوج کی گاڑیوں کی نقل و حرکت دکھائی گئی ہے۔ جبکہ ’ای وطن مادر، جی نواب اکبر‘ سی ڈی میں جب بلوچوں کے غداروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جمالی کی تصویر دکھائی جاتی ہے
اس کلپ میں چار پانچ ڈبل کیبن گاڑیوں کے قافلے میں ان جنگجؤوں کو پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں گشت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔انہیں اپنے جدید اسلحے سےفائرنگ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ ان جنگجؤوں کی نقل و حرکت کے دوران کسی کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔

ان سی ڈیوں میں جب بلوچوں کے دشمن کا ذکر کیا جاتا ہے تب پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی فوجی وردی والی تصویر دکھائی جاتی ہے اور جب ’چار کنڈان (چاروں طرف) نے کافران لشکر‘ کہا جاتا ہےتب پاکستان فوج کی گاڑیوں کی نقل و حرکت دکھائی گئی ہے۔ جبکہ ’ای وطن مادر، جی نواب اکبر‘ سی ڈی میں جب بلوچوں کے غداروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جمالی کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔

سندھ اور پنجاب کے دربدر بگٹیوں اور مری بلوچوں میں وہ انڈر گراؤنڈ سی ڈیاں زیادہ مقبول ہورہی ہیں جن میں بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ برہمداغ بگٹی کو اپنی جماعت کے نئے پرچم اور کلاشنکوف سمیت دکھایا گیا ہے۔ ان سی ڈیوں میں نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی تصاویر بار بار تب دکھائی جاتی ہیں جب آڈیو میں ’شہیدوں کے کفن نہ بیچ دینا‘ جیسے نغمے دیئے گئے ہیں۔

مذکورہ سی ڈیاں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بھی دیکھنے کےلیے ملی تھیں۔ ان کے بارے میں بلوچ قوم پرست کارکن وہاب بلوچ نے بتایا کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر بلوچ قوم پرستوں کے بارے میں تفصیلی معلومات نہیں ملتی مگر اس قسم کی سی ڈیاں دیکھ کر اپنے وطن اور اپنے لوگوں سے دور بیٹھ کر بھی ان کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد