BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 May, 2008, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان سے فوج ہٹانے کا مطالبہ

برہمداغ بگٹی نے کہا کہ ان کی جماعت قوم پرست سیاست کرے گی
نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ اپنے وسائل پر اختیار چاہتے ہیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

جعمہ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچ کسی سے کچھ نہیں مانگتے، بلوچستان کے تمام علاقوں سے فورسز واپس چلی جائیں اور اگر حکومت کو ضرورت ہے تو وہ بلوچوں سے ان کی مرضی سے بات کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں مانگنے کی عادت ختتم کرنی ہوگی، جو کچھ ہے ہمارا ہے اور ہمیں کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

براہمدغ بگٹی نے کہا: ’ہماری شروع دن سے یہی پالیسی ہے کہ ہم مزاحمت کاروں کی مکمل حمایت کریں گے جو بلوچستان کی جد و جہد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

 بلوچستان میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد براہمدغ بگٹی نے صحافیوں سے کم ہی رابطے کیے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انہوں نے پریس کلب میں ٹیلیفونک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا ہے اور اپنی جماعت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ مصالحت کے لیے ان کے پاس کیا تجاویز ہیں تو انہوں نے کہا کہ بلوچ حاکمیت چاہتے ہیں، ساحل اور وسائل پر اختیار چاہتے ہیں، بلوچستان کے تمام اضلاع سے فورسز چلی جائیں۔‘

انہوں نے کہا: ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ ہم سے بات کر سکتے ہیں۔ براہمدغ بگٹی نے کہا کہ حکومت کی ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ فورسز کو ہٹا لیا گیا ہے، اب بھی مورچے قائم ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ڈیرہ بگٹی سے دو سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسی طرح کچھ روز پہلے کاہان کے علاقوں میں فوجی آپریشن کیا گیا تھا، اس سے پہلے تین افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا تو اس طرح تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

بلوچستان میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد براہمدغ بگٹی نے صحافیوں سے کم ہی رابطے کیے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انہوں نے پریس کلب میں ٹیلیفونک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا ہے اور اپنی جماعت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

براہمدغ بگٹی نے جمہوری وطن پارٹی کے اپنے دھڑے کا نام بلوچ ریپبلکن پارٹی رکھ دیا ہے اور جماعت کا جھنڈا اور منشور تبدیل کر دیا ہے۔ اب ان کی جماعت مضبوط وفاق کی بجائے قوم پرستی کی سیاست کرے گی۔

فرنٹیئر کور کے کیمپ میں دھماکے
دریں اثناء آواران میں ضلعی دفاتر اور فرنٹیئر کور کے کیمپ میں دھماکے ہوئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے قبول کی ہے۔

دوسری جانب ڈیرہ بگٹی سے ایک اور کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں
شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک
21 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد