بلوچستان سے فوج ہٹانے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ اپنے وسائل پر اختیار چاہتے ہیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جعمہ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچ کسی سے کچھ نہیں مانگتے، بلوچستان کے تمام علاقوں سے فورسز واپس چلی جائیں اور اگر حکومت کو ضرورت ہے تو وہ بلوچوں سے ان کی مرضی سے بات کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں مانگنے کی عادت ختتم کرنی ہوگی، جو کچھ ہے ہمارا ہے اور ہمیں کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ براہمدغ بگٹی نے کہا: ’ہماری شروع دن سے یہی پالیسی ہے کہ ہم مزاحمت کاروں کی مکمل حمایت کریں گے جو بلوچستان کی جد و جہد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ ہم سے بات کر سکتے ہیں۔ براہمدغ بگٹی نے کہا کہ حکومت کی ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ فورسز کو ہٹا لیا گیا ہے، اب بھی مورچے قائم ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ڈیرہ بگٹی سے دو سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسی طرح کچھ روز پہلے کاہان کے علاقوں میں فوجی آپریشن کیا گیا تھا، اس سے پہلے تین افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا تو اس طرح تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد براہمدغ بگٹی نے صحافیوں سے کم ہی رابطے کیے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انہوں نے پریس کلب میں ٹیلیفونک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا ہے اور اپنی جماعت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ براہمدغ بگٹی نے جمہوری وطن پارٹی کے اپنے دھڑے کا نام بلوچ ریپبلکن پارٹی رکھ دیا ہے اور جماعت کا جھنڈا اور منشور تبدیل کر دیا ہے۔ اب ان کی جماعت مضبوط وفاق کی بجائے قوم پرستی کی سیاست کرے گی۔ فرنٹیئر کور کے کیمپ میں دھماکے دوسری جانب ڈیرہ بگٹی سے ایک اور کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں کوئٹہ:پولیس کی گاڑی پر حملہ13 May, 2008 | پاکستان ’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان قائد حزب اختلاف کا کمرہ بند16 May, 2008 | پاکستان بلوچستان:وزراء کی تعداد 44 ہو گئی21 May, 2008 | پاکستان شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک21 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: ایٹمی دھماکوں پر احتجاج28 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: ریل کا نظام معطل29 May, 2008 | پاکستان وزیر اعلیٰ، مظاہرین کی بات چیت29 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||