BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2008, 03:15 GMT 08:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان سے تبادلے کی درخواستیں

پولیس اہلکار
بلوچستان میں ٹریفک اور عام پولیس کی ایک بڑی تعداد نے صوبے میں پولیس اہلکاروں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں میں تبادلے یا تعیناتی کے لیے درخواستیں جمع کر ادی ہیں۔ صوبائی حکومت نے اب پولیس اہلکاروں اور افسران کے مراعات میں اضافے کے لیے رِسک الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان میں اور خصوصاً کوئٹہ میں اس سال اب تک پولیس اہلکاروں اور افسران کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے درجنوں واقعات ہوئے ہیں۔ کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے معروف چوراہوں پر ڈیوٹی پر معمور اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے لیکن ان واقعات میں ملوث افراد گرفتار نہیں ہو سکے۔

نفسیاتی دباؤ
 صوبے میں سائکو ٹراما کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں مختلف طبقہ فکر کے لوگ شامل ہو جو بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی تو ان خطرات کے ساتھ ہی وابستہ ہے جس وجہ سے ان پر زیادہ اثرات مرتب ہو تے ہیں
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر غلام رسول
ان واقعات پر قابو پانے کے لیے ان چوراہوں پر ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ہے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی ان کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

چوراہوں پر تعینات ٹریفک پولیس اور ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں نے تبادلے یا پنجاب میں کہیں تعیناتی کے لیے درخواست کے بارے میں نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا یہاں پولیس ٹارگٹ بن رہی ہے، کوئی تحفظ نہیں ہے، اعلیٰ حکام یا متعلقہ ادارے وعدے تو بہت کرتے ہیں لیکن پھر صورتحال وہی ہے۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے کم ہی درخواستیں دی ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں بنیادی طور پر صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں ٹریفک اور عام پولیس اہلکاروں اور افسران نے گزشتہ کچھ عرصے میں درخواستیں جمع کرائی ہیں کہ ان کا تبادلہ پنجاب کے مختلف شہروں یا اسلام آباد کر دیا جائے۔

اسلام آباد میں ماڈل ٹریفک پولیس کے منصوبے کے لیے بلوچستان کے لیے ایک سو سترہ نشستیں مختص ہیں جن کے لیے پچاس فیصد سے زیادہ اہلکاروں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

بلوچستان حکومت نے اب ان پولیس اہلکاروں اور افسران کو مراعات دینے کے لیے رِسک الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایک سپاہی کی تنخواہ میں کم سے کم تین ہزار روپے کا اضافہ ہوگا پر شرط ہے کہ خطرہ مول لینا پڑے گا۔

ٹریفک پولیس کے افسر منیم احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی ماڈل پولیس میں جانے کی درخواست دی تھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب صورتحال کافی بہتر ہو گئی ہے حکومت نے مراعات کا اعلان کر دیا ہے اور ڈیوٹی پر معمور اہلکاروں کی حفاظت کے لیے مسلح اہلکار ہوتے ہیں جس سے تحفظ کا کچھ احساس ہوتا ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ صوبے میں سائکو ٹراما کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں مختلف طبقہ فکر کے لوگ شامل ہو جو بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی تو ان خطرات کے ساتھ ہی ہے جس وجہ سے ان پر زیادہ اثرات مرتب ہو تے ہیں۔

اسی بارے میں
کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ
24 September, 2008 | پاکستان
کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد
16 September, 2008 | پاکستان
مورچوں کا شہر
02 September, 2008 | پاکستان
بلوچ تنظیموں کی فائر بندی
01 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد