زرداری کی گزین مری سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پاکستان آصف علی زرداری اور نواب خیر بخش مری کے بیٹے گزین مری کی دبئی میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دبئی سے ٹیلیفون پر گزین مری نے بتایا ہے کہ آصف علی زرداری ان کے دوست ہیں اور گزشتہ روز افطار پر ان کی ملاقات ہوئی تھی جس میں بلوچستان کے معاملے پر تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بلوچستان کے مسئلے کے حل میں کافی دلچسپی لی ہے ان مسائل کے حل کی یقین دہانی تو ضرور کرائی ہے اب عمل دیکھے گے کہ کیا ہوتا ہے۔
گزین مری نواب خیر بخش مری کے بیٹے ہیں اور انھوں نے ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی ہے جبکہ وہ دو مرتبہ جلا وطن ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ انیس سو اسی میں اور اب دوسری مرتبہ پرویز مشرف کے دور میں جلا وطن ہوئے ہیں۔ گزین مری کے مطابق ان کے خلاف جعلی مقدمے قائم کیے گئے جس وجہ سے وہ دبئی منتقل ہوگئے تھے اور دو ہزار چھ میں پاکستان حکومت کی ایما پر انھیں دبئی میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو نے دبئی میں حکمرانوں سے کہا تھا کہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں کچھ نہیں ہے جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔ گزین مری سے جب پوچھا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا تھا گزین مری جلد پاکستان آجائیں گے تو انھوں نے کہا کہ ان کی ملاقات رحمان ملک سے نہیں ہوئی لیکن وہ جب بھی پاکستان آئیں گے تو بلوچ قوم کی مشاورت سے آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم اپنے دفاع میں عرصہ دراز سے لڑ رہے ہیں اور ان کی جنگ بلوچستان کے حقوق کے لیے ہے لیکن پہلی مرتبہ بلوچوں نے منصوبہ بندی سے جوابی کارروائیاں بھی کی ہیں جو کافی کامیاب رہی ہیں۔ کالعدم مسلحہ تنطیموں کے جنگ بندی کے اعلان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ صرف جنگ بندی ہے اور بلوچ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یاد رہے گزین مری کے بھائی بالاچ مری نومبر دو ہزار سات میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں کاہان کا بالاچ21 November, 2007 | پاکستان سندھ، بلوچستان میں احتجاج22 November, 2007 | پاکستان ’اور کوئی مزاحمت کار سامنے آجائیں‘22 November, 2007 | پاکستان ’اگرمیرا کوئی بھائی تھا تو بالاچ تھا‘23 November, 2007 | پاکستان بالاچ ہلاکت:’باہمی عناد کا شاخسانہ‘23 November, 2007 | پاکستان حیربیار پاکستان کو مطلوب:وزارتِ داخلہ11 December, 2007 | پاکستان حیربیار پر دہشت گردی کا مقدمہ11 December, 2007 | پاکستان خیابانِ سحر کا خاموش مری11 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||