سوات تشدد کی دلدل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں فوج اور طالبان کی جنگ جسے زیادہ تر مقامی لوگ اب’ فرینڈلی میچ‘ کا نام دیتے ہیں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری ہے مگر تقریباً ایک ماہ سے اس میں اتنی شدت آئی ہے کہ اب صدر مقام مینگورہ بھی غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب ماضی کے برعکس فوجی حکمت عملی یا کسی امن معاہدے کی ناکامی کی صورت میں تلاش کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں بلکہ یہ باخبر ذرائع کے مطابق ملکی اداروں کے درمیان درونِ خانہ پیدا ہونے والی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ سوات میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے جب حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سیاسی مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگایا تو مخلوط صوبائی حکومت نے اکیس دسمبر کو کابینہ کا ایک اجلاس بلایا جس میں سوات میں جاری آپریشن کے متعلق فوج کی کارکردگی پر نہ صرف برملا عدمِ اعتماد کا اظہار کیا گیا بلکہ اسے مؤثر بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ حکومتی اور عسکری حلقوں کے مطابق یہاں سے صوبائی حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا اور فوج نے اس نہ صرف اپنی بین الاقوامی امیج کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھا بلکہ مؤقف اختیار کیا کہ اس ایک سال سے زائد عرصے کے دوران درجنوں اہلکاروں کی قربانی کا ایک قسم کا مذاق اڑایا گیا۔
باخبر حلقوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صوبائی حکومت پر اپنی ناراضگی کچھ اس صورت میں عیاں کی کہ سوات میں جاری فوجی آپریشن کی شدت میں ایک حد تک کمی لائی گئی۔ اگر دیکھا جائے تو صوبائی کابینہ کے اکیس دسمبر کے اجلاس کے بعد طالبان کی کارروائیاں صدر مقام مینگورہ تک پھیل گئی تھیں۔ اس کے بعد ہر روز مینگورہ سمیت سوات کے مختلف علاقوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ایک اندازے کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران پچاس کی لگ بھگ لاشیں ملیں جن میں بعض خواتین بھی شامل تھیں۔حالات اس قدر ابتر ہوئے کہ سوات میں روزانہ یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ فوج سوات کو چھوڑ کر اسے طالبان کے حوالے کر رہی ہے۔ لیکن بااعتماد ذرائع کے مطابق اس دوران صوبائی حکومت اور فوج کی اعلٰی قیادت کے دوران ایک ملاقات ہوئی جس میں معاملات کو سلجھانے پر اتفاق کیا گیا اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے دوبارہ مینگورہ میں رات کے وقت گشت شروع کر دیا اور مختلف مقامات جیسے بری کوٹ اور اوڈی گرامہ میں چیک پوسٹیں قائم کر لی گئیں جس سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بہت حد تک کم ہوگیا۔ تاہم فریقین کے درمیان اب بھی عدم اعتماد کی فضا موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالات تیسرے فریق یعنی طالبان کے حق جبکہ عام شہریوں کے خلاف جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سوات: تشدد جاری، تین ہلاک18 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک17 January, 2009 | پاکستان سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان سوات تشدد میں پانچ ہلاک16 January, 2009 | صفحۂ اول ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘16 January, 2009 | پاکستان سوات: طالبان کی ’معافی‘16 January, 2009 | پاکستان لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے تو کیا ہوا!16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||