کرفیو کے باوجود پانچ سکول تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں کرفیو کے باوجود پہلی مرتبہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہی رات میں طلبہ و طالبات کے پانچ سکولوں کو دھماکہ خیز میں تباہ کردیا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعات اتوار کی رات صدر مقام مینگورہ کے حدود میں پیش آئے جہاں فوجی حکام کے مطابق رات کے وقت کرفیو نافذ ہوتا ہے۔ ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مینگورہ شہر کے علاقے بنڑ میں مسلح افراد نے ایک ساتھ واقع لڑکوں کے ہائیر سکینڈری سکول اور ایک پرائمری سکول کو بم دھماکوں سے نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں درجنوں کمروں پر مشتمل دو عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے دونوں عمارتوں کے حصے مکمل طور زمین بوس ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ مینگورہ شہر کے علاقوں اینگرو ڈھرئی اور طاہر آباد میں بھی مسلح افراد نے رات کے وقت طلبہ و طالبات کے تین سکولوں کو الگ الگ واقعات میں دھماکہ خیز مواد میں نشانہ بنایا ہے جس سے عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طاہر آباد میں واقع سکول کو پہلے بھی مسلح افراد نے نشانہ بنایا تھا تاہم اس وقت سکول کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا جبکہ اس مرتبہ سکول مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ سوات میں ایک ہی رات میں پانچ سکولوں کو نشانہ بنایا جانا اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ بتایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مینگورہ شہر میں قتل اور اغواء کی وارداتوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے رات کے وقت شہر میں فوج کے گشت میں اضافہ کر کے وہاں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کرفیو کےدوران سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے شہر کے مکینوں میں مزید خوف وہراس بڑھا ہے۔ سوات میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً ایک سو ستر سے زائد تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے جن میں اکثریت خواتین کے سکول اور کالجز بتائے جاتے ہیں۔ چند دن قبل مقامی طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو دی گئی مہلت کے خاتمے پر نجی تعلیمی اداروں نے لڑکیوں کے سکول عام تعطیلات کے بعد نہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ دریں اثناء سکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقے منگلوار میں عسکریت پسندوں کے خلاف پانچ دن سے جاری آپریشن ختم کرکے علاقے سے پہلی مرتبہ کرفیو اٹھالیا ہے جبکہ منگلوار چارباغ سڑک کو بھی عام ٹریفک کےلیے کھول دیا گیا ہے۔ سوات کے اعلٰی اہلکار نے بتایا کہ منگلوار چار باغ سڑک مقامی لوگوں کی درخواست پر کھولی گئی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سوات کے پہاڑی علاقوں میں برف باری اور فوجی کاروائیوں کی وجہ سے ضلع بھر میں کئی اہم شاہراہیں اب بھی بند پڑی ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں سوات: تشدد جاری، تین ہلاک18 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک17 January, 2009 | پاکستان سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان سوات تشدد میں پانچ ہلاک16 January, 2009 | صفحۂ اول ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘16 January, 2009 | پاکستان سوات: طالبان کی ’معافی‘16 January, 2009 | پاکستان لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے تو کیا ہوا!16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||