BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 00:23 GMT 05:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’علاقہ چھوڑ کر بھاگوں گا نہیں‘

افضل خان لالہ
’جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو وہ طالبان کے خوف سے بھاگ کر کہیں اور پناہ کیوں لوں: افضل لالہ
صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات میں شدت پسندوں کے پانچ حملوں میں زندہ بچ جانے اور گزشتہ دس ماہ سے سکیورٹی کے حصار میں اپنے ہی گھر میں’ قلعہ بند‘ قوم پرست رہنماء افضل خان لالہ کا عزم اب بھی اتنا پختہ ہے کہ کہتے ہیں کہ’ کاکڑ جانہ ، میں علاقہ چھوڑ کر بھاگوں گا نہیں ، موت کا دن اور وقت مقرر ہے جب آنی ہو توجس صورت میں بھی آئے مجھے قبول ہے۔،

بیاسی سالہ افضل خان لالا نہ صرف صوبہ سرحد کے حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ہیں بلکہ انتالیس سالہ سیاسی جدوجہد کی وجہ سے وہ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں میں اس وقت ایک قدآور قوم پرست سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

مذاکرات کی شرط
 سوات میں شدت پسندی سے نمٹنے کا واحد حل یہی ہے کہ فریقین مذاکرات کریں مگر اس شرط پر کہ طالبان کو پہلے اسلحہ پھینکنا ہوگا
افضل لالہ

گزشتہ دس ماہ سے انہوں نے سوات میں اپنے آبائی گاؤں تحصیل مٹہ میں جو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے طالبان کے پے درپے حملوں کے باوجود اے این پی کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی ، مختلف سیاسی پارٹیوں کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں، علاقے کے دیگر خوانین و بااثر شخصیات کے برعکس علاقہ نہ چھوڑنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے لوگوں میں انکی سیاسی قد وقامت مزید بڑھ گئی ہے۔

افضل خان لالہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو وہ طالبان کے خوف سے بھاگ کر کہیں اور پناہ کیوں لوں‘ ۔

طالبان کےترجمان مسلم خان نے کہا ہے کہ ’جو لوگ ہماری جھونپڑیوں کو ویران کرتے ہیں ہم انکے محلوں کو تباہ کردیں گے۔ مجھے کبھی ان سے ملنے کا کوئی موقع ملا تو یہی پوچھوں گا کہ بتاؤ میں نے کس کی جھونپڑی کو تباہ کیا ہے۔‘

افضل خان لالہ کے ایک بھتیجے ایوب اشاڑی صوبائی وزیر بھی ہیں لیکن انکا کہنا ہے جب ان کی جماعت عوامی نیشل پارٹی نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تو انہوں نے ان سے فون پر بھی مشاورت کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔

اب انکا کہنا ہے کہ معاہدے کا حشر تو سبھی نے دیکھ لیا۔ان کے بقول سوات فوجی آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے ایک دفعہ کہا کہ ’سوات میں حالات امن معاہدے کی وجہ سے ہی خراب ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پارٹی ان سے رائے لیتی تو پہلے ’میں نے ان سے یہی پوچھتا کہ وہ بتائیں کہ صوبائی حکومت کوکتنی خودمختار ی حاصل ہے۔‘

ان کے بقول سوات میں مسئلہ حکومتی عملداری اور متوازی حکومت بنانے کا ہے۔طالبان کی تو کسی کے ساتھ ذاتی دشنی نہیں لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ جس طریقے سے وہ اپنا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں اسکا تو براہ راست نقصان غریبوں کو پہنچ رہا ہے۔’سکولوں، ہسپتالوں اور پلوں کو تباہ کرنے کانقصان تو غریبوں کو ہی پہنچتا ہے،امیر لوگ سوات سے باہر رہتے ہیں اور ان کے بچے اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔‘

افضل خان ان کے خاندان پر حملے
سوات میں طالبان نے افضل خان کے دو نواسوں سمیت پانچ افراد کو قتل کیا جبکہ ایک حملے میں وہ اور انکا بھتیجا زخمی بھی ہوئے۔

افضل خان لالہ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا اسلام ہر گز قبول نہیں کریں گے بلکہ وہ خود شریعت چاہتے ہیں مگر وہ شریعت جسکی پہلے ہی سے پاکستان کے آئین میں ضمانت دی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، اور ان کے بقول اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی گئی ہے۔

ان کی نظر میں سوات میں شدت پسندی سے نمٹنے کا واحد حل یہی ہے کہ فریقین مذاکرات کریں مگر اس شرط پر کہ طالبان کو پہلے اسلحہ پھینکنا ہوگا۔

سوات میں طالبان نے افضل خان کے دو نواسوں سمیت پانچ افراد کو قتل کیا جبکہ ایک حملے میں وہ اور انکا بھتیجا زخمی بھی ہوئے۔اس وقت ان کے گھر پر سکیورٹی فورسز کے تقریباً تین درجن اہلکار تعینات ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ’ آخر وقت تک طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘

اسی بارے میں
سوات: تشدد جاری، تین ہلاک
18 January, 2009 | پاکستان
سکول بند، اسمبلی کی تشویش
16 January, 2009 | پاکستان
سوات تشدد میں پانچ ہلاک
16 January, 2009 | صفحۂ اول
سوات: طالبان کی ’معافی‘
16 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد