سوات، حکومت کا اپنے آپ سے مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی نے صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور علاقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ان سکولوں کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبات منگل کے روز ایوان زیریں میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قراداد مذمت کے ذریعے کئے گئے ہیں۔ تاہم حیران کن طور پر حکومت سے مطالبات پر مبنی یہ قرارداد وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے پیش کی۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کے بعد اس تضاد کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کروائی کہ حکومت خود اپنے آپ ہی سے سکولوں کی تعمیر کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مذمتی قرارداد میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ سوات میں تباہ کئے گئے سکولوں کی فوری تعمیر نو کا بندوبست کرے۔ نواز لیگ کے رکن چودھری برجیس طاہر نے کہا کہ یہ عجیب حکومت ہے کہ اپنے آپ سے خود ہی مطالبات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات اور دیگر متاثرہ علاقوں کے بارے میں اس پارلیمنٹ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور اس قرارداد کا بھی یہی حال ہو گا۔ اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی اسی مقصد کے لئے موجود ہے کہ وہ اس ایوان کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا بندوبست کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ اس کمیٹی کو جلد از جلد فعال بنایا جائے۔ |
اسی بارے میں ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘16 January, 2009 | پاکستان کرفیو مگر پانچ سکول پھر تباہ19 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||