261 سکولوں میں تعلیم نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وادی سوات میں عسکریت پسندوں کی طرف سے تعلیمی اداروں پر جاری حملے اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً دو سو اکسٹھ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چار ہزار کے قریب ٹیچنگ سٹاف بھی تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ وزرات تعلیم صوبہ سرحد سے حاصل کئے گئے تازہ اعداد وشمار کے مطابق سوات میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر طلباء و طالبات کے 1575 سکولوں میں سے ایک سو اکہتر سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ہے یا نذرآتش کرکے تباہ کیا گیا ہے ۔ ان میں ایک سو چودہ لڑکیوں اور ستاون لڑکوں کے سکول ہیں۔ وزرات تعلیم کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شورش زدہ علاقوں میں باسٹھ سکول ایسے ہیں جنہیں نشانہ تو نہیں بنایا گیا ہے البتہ وادی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ان پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور وہاں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طورپر معطل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں اٹھارہ سکولوں میں مبینہ طورپر سکیورٹی فورسز کے اہلکارتعینات ہیں جس کی وجہ سے یہ سکول بند کئے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ضلع سوات میں کل ہائر سکینڈری سکولوں کی تعداد سترہ ہے جن میں تیرہ لڑکوں اور چار لڑکیوں کے ہیں۔ کل ہائی سکولوں کی تعداد نوے ہے جن میں اڑسٹھ لڑکوں جبکہ بائیس لڑکیوں کے ہیں۔ اس طرح تمام مڈل اور پرائمری سکولوں کی مجموعی تعداد چودہ سو سے زیادہ ہے جن میں زیادہ تر لڑکوں کے سکول شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات میں لڑکیوں اور لڑکوں کے تین سو اکسٹھ نجی سکول بھی ہیں۔ مجموعی طورپر ضلع میں سرکاری اور نجی سکولوں کی تعداد 1937 ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق سوات میں ہائیر سکینڈری ٹیچنگ سٹاف کی مجموعی تعداد پانچ سو اکہتر ہے جن میں چار سو سڑسٹھ مرد اساتذہ اور ایک سو چار خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ کل تیرہ سو چالیس ہائیر ٹیچنگ سٹاف میں سے بارسو اکیس مرد جبکہ دو سو انیس خواتین سٹاف شامل ہے۔ اس طرح مڈل اور پرائمری ٹیچنگ سٹاف کی مجموعی تعداد چھ ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ سکولوں کی بندش اور ان پر حملوں کی وجہ سے تقریباً چار ہزار ٹیچنگ سٹاف بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں کی تعداد میں مرد اور خواتین اساتذہ نے استعفے دے کر نوکریاں چھوڑ دی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات کی مجموعی آبادی ساڑھے سترہ لاکھ نفوذ پر مشتمل ہے جن میں سے خواتین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ان میں باون فیصد مرد جبکہ اڑتالیس فصید خواتین شامل ہیں۔ سوات میں شرح خواندگی مجموعی طورپر سنتیس اعشاریہ دو چار ہے جن میں مردوں کی شرح خواندگی باون اعشاریہ سات نو جبکہ خواتین کی بائیس اعشاریہ آٹھ نو ہے۔ ضلع سوات کا کل رقبہ پانچ ہزار تین سو سنتیس مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ | اسی بارے میں سوات: تشدد جاری، تین ہلاک18 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر حملہ، پیر ہلاک17 January, 2009 | پاکستان سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان سوات تشدد میں پانچ ہلاک16 January, 2009 | صفحۂ اول ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘16 January, 2009 | Poll سوات: طالبان کی ’معافی‘16 January, 2009 | پاکستان لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے تو کیا ہوا!16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||