BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2009, 00:59 GMT 05:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
261 سکولوں میں تعلیم نہیں

سوات میں اٹھارہ سکولوں میں مبینہ طورپر سکیورٹی فورسز کے اہلکارتعینات ہیں جس کی وجہ سے یہ سکول بند کئے گئے ہیں
پاکستان کی وادی سوات میں عسکریت پسندوں کی طرف سے تعلیمی اداروں پر جاری حملے اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً دو سو اکسٹھ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چار ہزار کے قریب ٹیچنگ سٹاف بھی تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔

وزرات تعلیم صوبہ سرحد سے حاصل کئے گئے تازہ اعداد وشمار کے مطابق سوات میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر طلباء و طالبات کے 1575 سکولوں میں سے ایک سو اکہتر سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ہے یا نذرآتش کرکے تباہ کیا گیا ہے ۔ ان میں ایک سو چودہ لڑکیوں اور ستاون لڑکوں کے سکول ہیں۔

وزرات تعلیم کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شورش زدہ علاقوں میں باسٹھ سکول ایسے ہیں جنہیں نشانہ تو نہیں بنایا گیا ہے البتہ وادی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ان پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور وہاں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طورپر معطل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی میں اٹھارہ سکولوں میں مبینہ طورپر سکیورٹی فورسز کے اہلکارتعینات ہیں جس کی وجہ سے یہ سکول بند کئے گئے ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ضلع سوات میں کل ہائر سکینڈری سکولوں کی تعداد سترہ ہے جن میں تیرہ لڑکوں اور چار لڑکیوں کے ہیں۔ کل ہائی سکولوں کی تعداد نوے ہے جن میں اڑسٹھ لڑکوں جبکہ بائیس لڑکیوں کے ہیں۔

اس طرح تمام مڈل اور پرائمری سکولوں کی مجموعی تعداد چودہ سو سے زیادہ ہے جن میں زیادہ تر لڑکوں کے سکول شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات میں لڑکیوں اور لڑکوں کے تین سو اکسٹھ نجی سکول بھی ہیں۔ مجموعی طورپر ضلع میں سرکاری اور نجی سکولوں کی تعداد 1937 ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق سوات میں ہائیر سکینڈری ٹیچنگ سٹاف کی مجموعی تعداد پانچ سو اکہتر ہے جن میں چار سو سڑسٹھ مرد اساتذہ اور ایک سو چار خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

کل تیرہ سو چالیس ہائیر ٹیچنگ سٹاف میں سے بارسو اکیس مرد جبکہ دو سو انیس خواتین سٹاف شامل ہے۔ اس طرح مڈل اور پرائمری ٹیچنگ سٹاف کی مجموعی تعداد چھ ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ سکولوں کی بندش اور ان پر حملوں کی وجہ سے تقریباً چار ہزار ٹیچنگ سٹاف بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں کی تعداد میں مرد اور خواتین اساتذہ نے استعفے دے کر نوکریاں چھوڑ دی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات کی مجموعی آبادی ساڑھے سترہ لاکھ نفوذ پر مشتمل ہے جن میں سے خواتین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ان میں باون فیصد مرد جبکہ اڑتالیس فصید خواتین شامل ہیں۔

سوات میں شرح خواندگی مجموعی طورپر سنتیس اعشاریہ دو چار ہے جن میں مردوں کی شرح خواندگی باون اعشاریہ سات نو جبکہ خواتین کی بائیس اعشاریہ آٹھ نو ہے۔ ضلع سوات کا کل رقبہ پانچ ہزار تین سو سنتیس مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں
سوات: تشدد جاری، تین ہلاک
18 January, 2009 | پاکستان
سکول بند، اسمبلی کی تشویش
16 January, 2009 | پاکستان
سوات تشدد میں پانچ ہلاک
16 January, 2009 | صفحۂ اول
سوات: طالبان کی ’معافی‘
16 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد