BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2009, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک

سوات
’چارباغ کے علاقے سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے‘
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین شدید جھڑپوں میں بیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس کے قریب بتائی ہے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

فوج کے ترجمان کے مطابق اتوار کی کارروائی میں سولہ شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح حکام نے اڑتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

سوات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی رات سکیورٹی فورسز نے چارباغ کے علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولہ باری میں زیادہ تر عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے ہیں جس میں انتیس افراد کے مارنے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم سوات کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے ان جھڑپوں میں بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ہلاک ہونے والے عام شہری بتائے جارہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شہری ہلاکتیں
 سوات میں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تقریباً بارہ سو شہری ہلاک ہوچکے ہیں
رحمان ملک

اس کے علاوہ مقامی لوگوں کے مطابق مینگورہ کے علاقے سنگوٹہ شکر تنگئی میں آٹھ لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق لاشوں کی شناخت نہیں ہوئی ہے اور لوگ خوف کی وجہ سے قریب جانے سے گریز کرہے ہیں۔

حکام کے مطابق مینگورہ کے نواحی علاقے رحیم آباد سے بھی ایک پولیس سپاہی کی لاش ملی ہے جس کا سر تن سے جدا کردیاگیا ہے جبکہ کبل کے علاقے ہزارہ سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔

دوسری طرف ڈھیرئی پر سکیورٹی فورسز نے مارٹر کےگولے بھی داغے جن میں سے بعض مکانات پرگرے ہیں جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ کبل میں بھی مکانات پر گولے گرنے سے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ پانچ دنوں کے دوران فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد مکانات پر گولے گرنے کے نتیجے میں اب تک اسی کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم سرکاری طور پر ان واقعات کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

سوات
مینگورہ کے علاوہ زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے

سوات کے مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چارباغ کے علاقے سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ سینکڑوں لوگ پیدل محفوظ مقامات کی طرف جارہے ہیں۔ صحافیوں کے مطابق شدید فائرنگ کے خوف سے لوگ لاشیں اپنے گھروں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔

دو دن قبل وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے کہا تھا کہ سوات میں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تقریباً بارہ سو شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

سوات میں دو ہفتوں سے صدر مقام مینگورہ کے علاوہ زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ مینگورہ کو بالائی سوات سے ملانے والی دونوں شاہراہوں کو دو دنوں سے ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

تشدد کی دلدل میں
سوات:حکومتی عملداری کمزور کیوں پڑ رہی ہے
رپورٹر کی ڈائری
’روز وہی خودکش حملے اور سربریدہ لاشیں‘
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
اسی بارے میں
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد