سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین شدید جھڑپوں میں بیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس کے قریب بتائی ہے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فوج کے ترجمان کے مطابق اتوار کی کارروائی میں سولہ شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح حکام نے اڑتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ سوات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی رات سکیورٹی فورسز نے چارباغ کے علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولہ باری میں زیادہ تر عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے ہیں جس میں انتیس افراد کے مارنے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم سوات کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے ان جھڑپوں میں بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک ہونے والے عام شہری بتائے جارہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مقامی لوگوں کے مطابق مینگورہ کے علاقے سنگوٹہ شکر تنگئی میں آٹھ لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق لاشوں کی شناخت نہیں ہوئی ہے اور لوگ خوف کی وجہ سے قریب جانے سے گریز کرہے ہیں۔ حکام کے مطابق مینگورہ کے نواحی علاقے رحیم آباد سے بھی ایک پولیس سپاہی کی لاش ملی ہے جس کا سر تن سے جدا کردیاگیا ہے جبکہ کبل کے علاقے ہزارہ سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔ دوسری طرف ڈھیرئی پر سکیورٹی فورسز نے مارٹر کےگولے بھی داغے جن میں سے بعض مکانات پرگرے ہیں جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ کبل میں بھی مکانات پر گولے گرنے سے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد مکانات پر گولے گرنے کے نتیجے میں اب تک اسی کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم سرکاری طور پر ان واقعات کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔
سوات کے مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چارباغ کے علاقے سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ سینکڑوں لوگ پیدل محفوظ مقامات کی طرف جارہے ہیں۔ صحافیوں کے مطابق شدید فائرنگ کے خوف سے لوگ لاشیں اپنے گھروں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ دو دن قبل وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے کہا تھا کہ سوات میں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تقریباً بارہ سو شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ سوات میں دو ہفتوں سے صدر مقام مینگورہ کے علاوہ زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ مینگورہ کو بالائی سوات سے ملانے والی دونوں شاہراہوں کو دو دنوں سے ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں طالبان کمانڈروں کی ہلاکت کا دعویٰ22 January, 2009 | پاکستان ’روز وہی لاشوں کا کاروبار‘23 January, 2009 | پاکستان سکولوں پرحملوں کےخلاف مظاہرے24 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز24 January, 2009 | پاکستان طالبان کومطلوبہ افراد کی فہرست25 January, 2009 | پاکستان ’نظامِ عدل آرڈیننس میں ترامیم کی کوشش‘26 January, 2009 | پاکستان بہشتِ مرحوم کی یاد میں27 January, 2009 | پاکستان سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک27 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||