BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 January, 2009, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں فوج کا ’آپریشن نرم گرم‘

سوات میں فوجی آپریشن تیسرے مرحلے میں ہے
وادی سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کو’راہ حق‘ کا نام دیا گیا ہے جو تقریباً ایک سال دو ماہ سے محوِسفر ہے لیکن تاہنوز سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اصطلاح میں ’ بھٹکے ہوئے‘ لوگوں کی تلاش میں اپنے نام کے برعکس خود ہی بھٹک رہا ہے۔

آپریشن راہ حق گزشتہ چھبیس جنوری سے اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور جب ہمیں اس کا پتہ چلا تو میرے ایک دوست نے پھبتی کستے ہوئے کہا یعنی ’آپریشن راہ حق کی دو مرحلوں کی ناکامی کے بعد اب تیسرے مرحلے کی بھی ناکامیابی شروع ہوگئی ہے۔‘

میں نے اپنے دوست کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کا نام ’آپریشن نرم گرم‘ ہونا چاہیئے۔ محفل میں سوال اٹھا وہ کیوں؟ وضاحت کے لیے مجھے چھبیس نومبر دو ہزار سات سے اب تک کی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالنی پڑی۔

آپریشن کے پہلے ہی دن گن شپ ہیلی کاپٹر‘ درجنوں فوجی جوان اورگاڑیاں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں بڑے جوش و خروش کے ساتھ سوات کی گلی کوچوں کو روندتے ہوئے طالبان پر چڑھ دوڑے۔

 ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض علاقوں میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں بالکل آمنے سامنے تھیں، مثلاً چہار باغ میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے درمیان پچاس گز کا فاصلہ تھا۔ بالآخر طالبان اپنی قوت کا مظاہرہ صدر مقام مینگورہ میں کرنے لگے جہاں سے علاقے میں برسِر پیکار چالیس ہزار فوجیوں کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
حملوں اور جوابی حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا، ہزاروں لوگ پیدل اور گاڑیوں میں سوار ہوکر محفوظ مقامات کی طرف نکل پڑے۔ طالبان نے کئی ہفتوں تک مزاحمت کی اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ فوج نے طالبان کو اپنے گڑھ تحصیل مٹہ، کبل اور آس پاس کے علاقوں سے تقریباً نکال دیا۔

آپریشن راہ حق کے پہلے مرحلے میں سوات کی تقریباً پچاسی فیصد علاقے پر حکومتی عملداری قائم ہوگئی۔ طالبان اپنے سربراہ مولانا فضل اللہ اور دیگر کمانڈروں کے ہمراہ سوات کے دشوار گزار جنگلی علاقے گٹ پیوچار کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔

جب پہلا ’گرم‘ مرحلہ ختم ہوا تو مقامی انتظامیہ نے سکھ کی سانس لے لی اور اپنا کام شروع کردیا۔ لوگ گھروں کو لوٹے مگر زخم خوردہ طالبان گٹ پیوچار کی پہاڑوں میں سستانے کے بعد چھاپہ مار جنگ کے لیے واپس لوٹ آئے۔ خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، اغواء، بم دھماکوں اور دھمکیوں کاسلسلہ پھر سےشروع ہوگیا۔

جب طالبان نے سکیورٹی فورسز کے ناک میں دم کردیا تو پھر انتیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو ایک اور اعلان آیا کہ آپریشن راہ حق کا ’دوسرا مرحلہ‘ شروع ہوگیا ہے۔

اس بار شاید سکیورٹی پالیسی سازوں نے کافی غور وخوض کے بعد گٹ پیوچار سے طالبان کا صفایا ضروری سمجھا اور انہوں نے وہاں پر زمینی دستوں کی بجائے جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کو بمباری کے لیے بھیج دیا مگر نتیجہ نہ دارد۔

وہاں بمباری ہو رہی تھی، یہاں طالبان میدانی علاقوں میں پہلے ہی سے پہنچ چکے تھے۔ انہوں عدالتیں قائم کیں اور سرِعام کوڑوں کی سزائیں دینی شروع کردیں۔ درجنوں سکول تباہ کیے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا دی۔ یوں رفتہ رفتہ طالبان کی پیش قدمی جاری رہی اور جہاں جہاں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں تھیں وہ ایک ایک کرکے خالی ہوتی رہیں۔

 جس طرح آپریشن ’راہ حق‘ کے پہلے مرحلے میں سکیورٹی فورسز نے پچاسی فیصد علاقے پر قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرح دوسرے مرحلے میں طالبان نے تقریباً اسی فیصد علاقہ پر اپنا قبضہ جما لیا۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض علاقوں میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں بالکل آمنے سامنے تھیں، مثلاً چہار باغ میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے درمیان پچاس گز کا فاصلہ تھا۔ بالآخر طالبان اپنی قوت کا مظاہرہ صدر مقام مینگورہ میں کرنے لگے جہاں سے علاقے میں برسِر پیکار چالیس ہزار فوجیوں کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

کئی ہفتوں تک شہر کے وسط میں واقع گرین چوک سے ہرصبح اتنی لاشیں ملنی شروع ہوگئیں کہ گرین چوک اپنا تاریخی نام کھوکر مختصر عرصےمیں ریڈ چوک، قتل گاہ اور لال چوک کے اپنے نئے نام سے روشناس ہوگیا۔

جس طرح آپریشن ’راہ حق‘ کے پہلے مرحلے میں سکیورٹی فورسز نے پچاسی فیصد علاقے پر قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرح دوسرے مرحلے میں طالبان نے تقریباً اسی فیصد علاقہ پر اپنا قبضہ جما لیا۔

اس لحاظ سے دوسرے مرحلے کو’ نرم‘ مرحلہ بھی کہا جاسکتا ہے اور حالات و واقعات کی وقوع پزیری کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس مرحلہ کا منطقی نتیجہ یہی نکلا کہ’جیو اور جینے دو۔‘

ان حالات میں سوات کے زیادہ عوام اور ملکی و بین الاقومی میڈیا نے فوجی آپریشن پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ ’طالبان اور فوج شہریوں کے خلاف بظاہر ایک ہوچکےہیں۔‘

اس دوران پاکستان کی اقتدار کی بساط پر طاقت کے مہرے تبدیل ہوگئے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے روح رواں ملک امریکہ میں بھی بش انتظامیہ کی جگہ سیاہ فام رہنما باراک اوبامہ نے لی جس نے انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ عراق کی بجائے پاکستان اور افغانستان میں لڑنے کا وعدہ کیا تھا۔

مولانا فضل اللہ
اس پورے منظر نامہ میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اس خطے میں سوات ہی عالمی سطح پر ایک فلیش فوائنٹ بن کرا بھرا جہاں پر حالات نہ صرف پاکستان کی سیاسی حکومت بلکہ عالمی برداری کے لیے بھی ناقابل برداشت ہوگئے، اسی لیے تو فرانس نے پہلی مرتبہ مینگورہ میں پانچ سکولوں کے تباہ کرنے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سوات کا دورہ کیا اور یوں آپریشن راہ حق کا ’تیسرا مرحلہ‘ جو اب تک قدرے ’گرم‘ رہا ہے شروع ہوگیا ہے۔ فوج نے پھر سے بعض علاقوں کو واپس لے لیا ہے اورطالبان کو بھی اس کی شدت کا اندازہ ہوگیا ہے، ا سی لیے تو مولانا فضل اللہ نے بی بی سی سے بات کرکے جوابی دھمکی دیدی ہے۔

میں نے دوستوں کی محفل میں ’آپریشن راہ حق‘ کا نام ’آپریشن نرم گرم‘ میں تبدیل کرنے پر اتنی طویل لیکچر دیتے ہوئے جب اس کے نتائج پر آخری بات کہنے کی اجازت چاہی تو میرے ایک دوست نے تنگ آکر کہا کہ یار جلد جلدی ختم کرو پھر اس کے بعد میری باری ہے۔

میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ’آپریشن راہ حق‘ ماشاء اللہ اب تقریباً ایک سال دو ماہ کا ہوگیا ہے اور اس کےنتائج وزارت داخلہ کےمشیر رحمان ملک کی زبانی تو آپ سبھی سن چکے ہیں کہ ’آپریشن کے دوران بارہ سو شہری، ایک سو نواسی اہلکار ہلاک اور ایک سو تینتیس سکول تباہ ہوئے ہیں۔‘

مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس دوران آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے کاغذ پر بھی سینکڑوں طالبان کی موت واقع ہوئی ہے۔ یعنی سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان شہریوں کو پہنچا ہے،گویا لوگ اب اس مخمصے میں ہیں کہ آپریشن ’راہ حق‘ طالبان کے خلاف جاری ہے کہ شہریوں کے خلاف؟

میرے دوست نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن راہ حق کے تیسرے مرحلے کو بیسٹ آف تھری سمجھ لیجیئے۔‘

رپورٹر کی ڈائری
’روز وہی خودکش حملے اور سربریدہ لاشیں‘
حکومتی’ بےاختیاری‘
’سوات میں حکومت کا زور چل نہیں رہا‘
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
مولانا فضل اللہطالبان کا ایف ایم
سوات میں مولانا فضل اللہ کی پروپیگنڈا مشین
سواتسوات: بہشتِ مرحوم
ماضی کی درس گاہ سے حال کی قتل گاہ تک
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
سواتسوات آپریشن
بارہ سو شہری، ایک سو نواسی فوجی ہلاک
اسی بارے میں
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد