BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنرل کیانی فوج کی ساکھ بچائیں‘

کیانی
حکومت کو اپنے ان حامی افراد کی حفاظت کرنی چاہیئے جنہیں طالبان قتل کرنا چاہتے ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں بزرگ قوم پرست راہنماء افضل خان لالہ نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوات کے عوام کے اس تاثر کوختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں کہ فوج اور طالبان ایک ہیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے بدھ کو سوات میں جاری فوجی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے سوات کا دورہ کیا تھا جہاں پر انہوں نے کہا تھا کہ فوج حکومتی عملداری قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

افضل خان لالہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے بدھ کو کانجو ایف سی کیمپ میں دو صوبائی وزراء واجد علی خان، ایوب اشاڑی اور اپنے بھتیجے ریٹائر کرنل عبدالغفور خان کے ہمراہ پاکستان فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی۔

ان کے بقول انہوں نے آرمی چیف کو بتایا کہ سوات میں زیادہ تر لوگوں کو اب یہ یقین ہوچلا ہے کہ فوج اور طالبان ایک ہیں لہٰذا وہ اس سلسلے میں کچھ ایسے ٹھوسں اقدامات کریں کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات نکل جائے۔

 افضل خان لالہ طالبان کے ’مطلوب افراد‘ کی فہرست میں شامل ہیں اور اس سے قبل ان پر طالبان نے پانچ حملے کیے تھے جس میں ایک میں وہ اور ان کا بھتیجا زخمی ہوگئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ’بھاگیں گے نہیں بلکہ طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے فوج کے سربراہ کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران فوج نے تحصیل مٹہ، برہ بانڈہ اور ننگلوئی میں طالبان کو قتل کرکے اچھا اقدام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو انہوں نے بتایا کہ پہلے تو یہ طے کرنا چاہیئے کہ مسئلہ کیا ہے۔ ’میں نے کہا میری نظر میں مسئلہ یہ ہے کہ طالبان نے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا ہے لہٰذا ریاست کو پہلے تو اپنی رٹ بحال کرنی چاہیئے۔‘

ان کے بقول انہوں نے ان سے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اپنے ان حامی افراد کی حفاظت کرنی چاہیئے جنہیں طالبان قتل کرنا چاہتے ہیں۔

’میں نے کہا کہ فوج یہ نہ کہے کہ وہ غیر جانبدار ہے اس لیے وہ اپنے حامی افراد کا تحفظ نہیں کرسکتی کیونکہ فوج کسی دو فریقین کے خلاف کارروائی کرنے نہیں آئی ہے بلکہ وہ ایک فریق کے طور پر یہاں ہے لہٰذا جو لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں وہ انہیں تحفظ فراہم کرے۔‘

افضل خان لالہ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے بہت کم باتیں کیں تاہم انہوں نے اتنا کہا کہ ’وہ صورتحال کو جانتے ہیں اور وہ ان کا بہت جلد علاج کریں گے جس کا اثر آپ لوگ بہت جلد محسوس کرلیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ پہلی ملاقات تھی جس میں انہوں نے انہیں ایک پُر عزم، مثبت اور عملی انسان پایا۔

افضل خان لالہ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے ہی آبائی گاؤں سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر آرمی چیف سے ملنے کانجو ایف سی کیمپ گئے جس سے سوات میں حکومتی عملداری، گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری فوجی کارروائی کے مؤثر ہونے اور طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حالانکہ ان کا گاؤں دُریش خیلہ سے کانجو ایف سی کیمپ کا فاصلہ محض پندرہ کلومیٹر ہے۔

افضل خان لالہ طالبان کے ’مطلوب افراد‘ کی فہرست میں شامل ہیں اور اس سے قبل ان پر طالبان نے پانچ حملے کیے تھے جس میں ایک میں وہ اور ان کا بھتیجا زخمی ہوگئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ’بھاگیں گے نہیں بلکہ طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘۔

اسی بارے میں
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد