سکولوں پرپابندی کے خلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں سکولوں اور کالجوں کو دھماکوں سے اڑانے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف بدھ کو کراچی میں درجنوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سکول کے بہت سے بچے بھی شریک تھے۔ مظاہرے کا اہتمام پختونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کیا تھا جس میں کافی لوگ شریک ہوئے۔ مظاہرین دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف نعرے لگارہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت سوات میں اپنی رٹ بحال کرے۔ اس موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پختونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما احمد جان نے کہا کہ سوات میں لڑکیوں کے دو سو سے زائد سکولوں کو تباہ کیا گیا ہے اور ڈھائی ہزار سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند کردیےگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی سوات پر مسلط کی گئی ہے اور اس کی قیمت وہاں کے معصوم عوام اور سیاسی کارکن چکا رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سوات کی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ احمد جان نے کہا کہ سوات اور قبائیلی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی پر حکومت اور ریاستی اداروں کی ایک متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ ’ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی ایک پالیسی ہے اور حکومت جو اعلانات کررہی ہے وہ کچھ اور ہیں۔ بظاہر وہ اعلانات کررہی ہے لیکن عملی طور پر ہو یہ رہا ہے کہ چند شرپسندوں اور انتہاپسندوں نے سوات کی سولہ لاکھ آبادی کو یرغمال بنارکھا ہے۔اگر واقعی حکومت کی رٹ ہوتی تو وہاں پر یہ صورتحال نہ ہوتی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر سوات کے مسئلے کا سنجیدگی سے حل نہیں ڈھونڈا گیا تو یہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ | اسی بارے میں سکول بند، اسمبلی کی تشویش16 January, 2009 | پاکستان سکولوں کی تباہی، سلسلہ جاری21 January, 2009 | پاکستان سکولوں پرحملوں کےخلاف مظاہرے24 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز24 January, 2009 | پاکستان سوات حملہ، قوم پرست رہنما زخمی21 September, 2007 | پاکستان خودکش بمباروں پر وفاقی وارننگ22 September, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان ’مزید ایک سو اہلکاروں کا اغوا‘03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||