BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات حملہ، قوم پرست رہنما زخمی

سابق وفاقی وزیر محمد افضل خان
سابق وفاقی وزیر محمد افضل خان حملے میں بچ گئے لیکن ان کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے
صوبہ سرحد کےضلع سوات میں پولیس کے مطابق قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر محمد افضل خان ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ انکے دو ساتھی ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

سوات کے ضلعی رابطہ افسر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے محمد افضل خان اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں کہیں جا رہے تھے کہ تحصیل مٹہ میں چغلزئی بنڑ کے مقام پر بعض نامعلوم افراد نے انکی گاڑی پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔

انکے بقول فائرنگ کے نتیجے میں محمد خالد اور شیر عالم ہلاک جبکہ بخت روان، شراف اور عبدالجبار زخمی ہوگئے ہیں۔ انکے مطابق زخمیوں میں محمد افضل خان کے بھتیجے اور تحصل مٹہ کے ناظم عبدالجبار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سید محمد جاوید کے بقول محمد افضل خان کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ انہیں باقی زخمیوں کے ہمراہ طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے اس واقعہ میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

اسی سالہ محمد افضل خان انیس سو بہتر اور تہتر کے دوران صوبہ سرحد میں جمعیت علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط حکومت میں صوبائی وزیر جبکہ بے نظیر بھٹو کے دوسری دور حکومت میں امور کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔

صوبہ سرحد میں چند روز قبل جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اور ممتاز اسکالر مولانا حسن جان کی ہلاکت کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کے اہم رہنما کو نشانہ بنا ئے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

واضح رہے کہ ضلع سوات میں جمعرات کو بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ سوات میں گزشتہ چند ماہ کے دوران خودکش حملوں، سی ڈی سینٹرز میں بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم حکام ابھی تک اس سلسلے میں نہ تو کسی کو گرفتار کر پائے ہیں اور نہ ہی ان حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات میں پولیس اہلکار قتل
11 September, 2007 | پاکستان
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد