BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 January, 2009, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز

 سوات
طالبان نےسکیورٹی فورسز کے زیر قبضہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے زیادہ تر تعلیمی اداروں کا کنٹرول ایک ایسے وقت سنبھال لیا ہے جب طالبان نے دھمکی دی ہے کہ سکیورٹی فورسز کے زیر قبضہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بناکر تباہ کیا جائےگا۔

ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ فوج اور ایف سی کے جوانوں نے جمعہ کو سوات کے صدر مقام مینگورہ میں واقع لڑکوں اور لڑکیوں کے زیادہ تر تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے یے یہ اقدام کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جہانزیب کالج، گرلز کالج، گرلز ہائی سکول، گرلز ہائی سکول حاجی با با سمیت دیگر تعلیمی اداروں پر مبینہ طور پر قبضہ کرلیا ہے۔

مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا مطلب بظاہر طالبان کو دعوت دینا ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں کو تباہ کردیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں اُن تمام تعلیمی اداروں کو مبینہ خودکش حملوں یا دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جہاں پر سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔

 مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جلد ازجلد سکیورٹی فورسز کو سکولوں سے کہیں اور منتقل کردے تاکہ تعلیمی ادروں کو تباہی سے بچایا جائے

ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کو فضاء گھٹ چیک پوسٹ پر طالبان کی جانب سے جو خودکش حملہ ہوا تھا وہ مسلم پبلک سکول کی عمارت تھی جس پر قبضہ کرکے سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ میں تبدیل کردیا تھا۔

اس سے ایک ماہ قبل بھی سنگوٹہ پبلک سکول کے ہاسٹل پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں سکیورٹی فورسز تعینات تھے۔طالبان کے ترجمان مسلم خان نے کہا ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں کو تباہ کریں گے جہاں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود ہوں۔

پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی عائد کرنے کے طالبان کے فیصلے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی برادری میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔

دو دن قبل فرانس نے مینگورہ میں پانچ تعلیمی اداروں کی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں کے بعد کسی ملک کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جلد ازجلد سکیورٹی فورسز کو سکولوں سے کہیں اور منتقل کردے تاکہ تعلیمی ادروں کو تباہی سے بچایا جائے۔

دوسری طرف سوات میں جمعہ کو ہونے والے خودکش حملے کے بعد سنیچر کو خوازہ خیلہ اور مینگورہ روڈ کوبند کردیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک جبکہ تین افراد کو زخمی کردیا گیاہے۔

اسی بارے میں
سوات: تشدد جاری، تین ہلاک
18 January, 2009 | پاکستان
سکول بند، اسمبلی کی تشویش
16 January, 2009 | پاکستان
سوات تشدد میں پانچ ہلاک
16 January, 2009 | صفحۂ اول
سوات: طالبان کی ’معافی‘
16 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد