سوات: طالبان کا پیغام ہواکےدوش پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات کے طالبان ایک محتاط اندازے کے مطابق نہ صرف اسّی فیصد علاقے پر قابض ہوچکے ہیں بلکہ ایف ایم چینل کی صورت میں اب ان کی اجارہ داری ہوا کی لہروں پر بھی قائم ہوچکی ہے۔ اگرچہ سوات میں دو سال قبل ایک درجن سے زائد غیر قانونی ایف چینل چل رہے تھے اب صرف ایک ہی چینل کی نشریات سنائی دیتی ہیں۔ یہ چینل ’مولانا فضل اللہ ایف ایم چینل‘ کہلاتا ہے۔ سوات کی شدت پسندی کو اگر ’غیر قانونی ایف چینل کی شدت پسندی‘ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ کیونکہ اس چینل نے دو ہزار چھ میں اپنے قیام کے بعد صرف دو سال کے مختصر عرصے میں ایک باقاعدہ مسلح گروپ کی تشکیل میں مدد دی۔ ابتدا میں مولانا فضل اللہ نے لوگوں کا دل جیتنے کے لیے درسِ قرآن، دینی مسائل پر لوگوں کے سوالوں کے جواب اور سماجی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر زور دیا۔ پھر رفتہ رفتہ ان نشریات پر ’جہاد‘ کی افادیت کا رنگ غالب آنے لگا۔ اس تبدیلی نے جوانوں کی ایک کھیپ تیار کی، لوگوں کے چندوں سے تقریباً تین کروڑ روپے کی لاگت سے امام ڈھیرئی مرکز کی تعمیر کاکام شروع ہوا جس میں مقامی لوگوں نے بلا معاوضہ کام کیا۔ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی کے آغاز کے بعد مولانا فضل اللہ پس منظر میں چلے گئے اور ایف چینل پر تقریر کی ذمہ داری مولانا شاہ دوران نے سنبھال لی ہے۔ مولانا شاہ دوران نرم لہجے مگر طنز و مزاح سے بھر پور انداز میں طالبان کی جانب سے احکامات پیش کرتے ہیں۔ ان کے ایک سامع نے بتایا کہ مولانا شاہ دوران نے سیاسی لیڈروں اور اعلی عہدوں کی پیروڈی بنارکھی ہے جیسےزرادری کو غداری، گیلانی کو گیلنے، وزیراعظم کو خ۔۔۔ اعظم اور وزیر اعلی کو خ۔۔۔ اعلی پکارتے ہیں۔
رات کے ساڑھے سات سے دس بجے تک جاری رہنے والی نشریات چار حصوں یعنی درسِ قرآن، چندہ دینے والوں کا شکریہ، ’خوشخبریاں‘ سنانے اور دھمکیاں دینے پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مذکورہ سامع کا کہنا ہے کہ مولانا شاہ دوران اسلامی تاریخ کے واقعات کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں جس سے طالبان کی کارروائیاں، جیسے لوگوں کا سرقلم کرنا وغیرہ صحیح ثابت ہوسکے۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات تقریر کے بعد جب وہ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے تو انہوں نے ان سے ایک جہادی سی ڈی دیکھنے کی فرمائش کی اور بقول ان کے ’میں نے جب سی ڈی دیکھی تو اس میں ذبح کرنے کےاتنے خوبصورت خوبصورت مناظر تھے کہ مزہ آگیا۔‘ وہ اپنی تقریر کے دوران ملکی اور بین لاقوامی سطح پر تشدد کے ہونے والے بعض واقعات مزے لے کر بیان کرتے ہیں جس سے وہ خوشخبریوں کا نام دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایف ایم چینل کے سننے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ طالبان ایک قوت ہے اور وہ جو کہتے ہیں کرکے دکھاتے ہیں۔ سننے والوں میں زیادہ تر پرائیویٹ سکولوں کے مالکان، ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین، مینگورہ میں خواتین مارکیٹ کے دوکاندار، این جی او سیکٹر میں کام کرنے والے اور کاسمیٹک انڈسٹری کے مالکان شامل ہیں۔ ان لوگوں سے جب بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ شوقیہ نہیں بلکہ اس لیے ایف ایم چینل سن رہے ہیں کہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ طالبان کا اگلی ’لائن آف ایکشن‘ کیا ہے، یعنی کس کو قتل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، سکولوں کے بارے میں ان کی سوچ اب کیا ہے اور جنگ کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے۔ اس یف ایم چینل کی نشریات سوات سے باہر مردان کے بعض علاقوں تک بھی سنی جاسکتی ہیں اور ان میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ مولانا شاہ دوران کے مزاحیہ انداز گفتگو سے لطف اٹھانے کے لیے وہ ان کی تقریر سنتے ہیں۔ |
اسی بارے میں فضل اللہ کا ایف ایم چینل پھر’بند‘21 March, 2008 | پاکستان فضل اللہ کے ایف ایم کا دوبارہ آغاز20 March, 2008 | پاکستان طالبان کومطلوبہ افراد کی فہرست25 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز24 January, 2009 | پاکستان طالبان کی ویڈیو ٹیپ میں فدائین18 January, 2009 | پاکستان سوات، گن شپ، توپخانے کا استعمال10 November, 2008 | پاکستان طالبان نے اغوا شدہ ’لشکر‘ رہا کر دیا30 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||