عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | طالبان نے دعوی کیا کہ یرغمال بنائے جانے والے افراد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ طالبان مخالف کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے |
صوبہ سرحدکے ضلع سوات میں طالبان نے ان باسٹھ مقامی افراد کو رہا کر دیا ہے جن کو انہوں نے لشکر بنانے کے الزام کے تحت اغواء کیا تھا۔ سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان باسٹھ مقامی افراد کو جمعرات کی صبح ایک مقامی جرگے کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کو اس الزام کے تحت تحصیل مٹہ سے پانچ روز قبل مسلح طالبان نے اغواء کیا تھا کہ انہوں نے لشکر تشکیل دیکر طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یرغمال بنائے جانے والے ان مقامی افراد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ طالبان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ یاد رہے کہ چار روز قبل طالبان نےتحصیل مٹہ میں ایک چیک پوسٹ قائم کردی تھی جس پر مقامی لوگوں نے مشتعل ہوکر ان پر حملہ کر دیا تھا۔طالبان اور مقامی لوگوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تین طالبان اور بارہ مقامی لوگ مارے گئے تھے۔ اس سے دو ماہ قبل بھی تحصیل مٹہ کے علاقے منڈل ڈاگ میں طالبان اور مقامی آبادی کے درمیان دو دنوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں طالبان سمیت متعدد عام لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری طرف جمعرات کی دوپہر نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل کبل میں مولانا فضل اللہ کے آبائی گاؤں امام ڈھیرئی میں ایک سرکردہ شخص خان گل کو گھر سے نکلتے وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ خان گل پر پچھلے مہینے بھی حملہ ہوا تھا جس میں ان کے دو بیٹے زخمی ہوگئے تھے۔طالبان کے ترجمان مسلم خان نے ان کی ہلاکت سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ |