سوات، گن شپ، توپخانے کا استعمال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ مینگورہ کے علاقے سنگھوٹہ میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ مارٹر اور توپخانے کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ادھر باجوڑ میں حکام نے بتایا ہے کہ دو کمانڈروں سمیت بارہ شدت پسندوں نے ایک جرگے کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سوات میڈیا سینٹر کے ایک اعلٰی اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنگھوٹہ کے علاقے سے عام شہری پہلے ہی سے محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے پانچ سو سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کے مطابق شدت پسندوں نے مینگورہ کے قریب سنگھوٹہ رابط پل، شموزئی اور لنڈکے رابط پلوں کو بارودی دھماکے سے تباہ کیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کی مرمت کاکام جاری ہے اور جلد ہی رابط پلوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیاجائے گا۔ اس کے علاوہ سوات کے علاقے چکدرہ میں علاقے پر مسلسل گولہ باری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرے سے سینیٹر گل نصیب، صوبائی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر ذاکر خان اور سوات امن کیمٹی کے سربراہ بخت بیدار نے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع دیر سے بھاری توپخانے سے سوات کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس گولہ باری کے نتیجے میں ہدف کی بجائے گولے عام گھروں پر گرتے ہیں جس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوات میں فوجی کارروائی بند کی جائے اور مسئلے کے حل کے لیے جرگہ بلایا جائے۔ ادھر ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بارودی سرنگ سے حملہ ہوا ہے جس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ہنگو پولیس کے سربراہ سجاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دوابہ سے طورہ وڑئی جانے والے قافلے پر دوابہ کے قریب بارودی سرنگ سے حملہ ہوا ہے جس میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بارہ شدت پسدوں نے ایک جرگے کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔جس میں دو اھم کمانڈر شامل ہیں۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق پیر کو اتمان خیل قبائل سے تعلق رکھنے والے بارہ شدت پسندوں نے ایک قبائلی جرگے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ہتھیار ڈالنے والوں میں دو اہم کمانڈر سبزعلی خان اور محمد سلطان شامل ہیں۔حکام کےمطابق قبائل جرگے نے بعد میں ان شدت پسندوں کو حکومت کے حوالے کیا ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سبزعلی خان اور محمد سلطان کو تاحال حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔سبزعلی خان کے والد اور محمد سلطان کے بھائی کو حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل خار کے علاقوں زور بند اور سباگی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں گولہ باری کی ہے جس کے نتیجہ میں شدت پسندوں کے دو اہم ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں تاہم اس کارروائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے علاقے بلوٹ میں بہادر سید کے گھر کی چاردیواری میں کسی نے بارودی مواد نصب کیا تھا جو پیر کو ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجہ ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ | اسی بارے میں باجوڑ:’بارہ شدت پسند ہلاک ‘ 09 November, 2008 | پاکستان مینگورہ:ہلاک صحافی سپردِ خاک09 November, 2008 | پاکستان سوات: چھ شہری اور انسپکٹر ہلاک01 November, 2008 | پاکستان سوات لشکر طالبان جھڑپیں، تیرہ ہلاک26 October, 2008 | پاکستان سوات: پولیس افسر کا سر قلم25 October, 2008 | پاکستان خود کش نہیں فدائی حملے: طالبان15 October, 2008 | پاکستان ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا06 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||