BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: 1200 شہری، 189 فوجی ہلاک

مشیر داخلہ نے بتایا کہ مینگورہ پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول بحال ہوگیا ہے

وزارت داخلہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ سوات میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں بارہ سو شہری اور ایک سو نواسی فوجی مارے گئے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کی شام کو سوات میں امن و امان کی صورتحال پر ایوان بالا سینیٹ میں بحث سمیٹتے ہوئے کہی اور ایوان حکومتی اقدامات کے بارے میں بند کمرے میں بریفنگ دینے کی پیشکش بھی کی۔ سوات میں کئی ماہ سے جاری لڑائی کے بارے میں پہلی بار حکومت نے اعداد و شمار دیئے ہیں۔

مشیر داخلہ نے بتایا کہ مینگورہ پر سکیورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول بحال ہوگیا ہے اور چند ہفتوں میں سوات میں حالات مزید بہتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے شدت پسندوں کو ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت کسی طور پر مٹھی بھر شدت پسندوں کے سامنے نہیں جھکے گی اور سب کو مار بھگائے گی۔

رحمٰن ملک نے تسلیم کیا کہ پولیس فورس کو انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت حاصل ہے اور نہ ہی ان کے پاس جدید آلات اور فلیک جیکٹ ہیں۔ رحمٰن ملک نے بتایا کہ اب فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ چوکیاں قائم کی گئیں ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی۔

’چوبیس سو کی پولیس فورس میں سے آدھے نوکری چھوڑ رہے ہیں۔۔ میں انہیں بزدل نہیں کہوں گا۔۔ وہ مجبور ہیں۔۔ ان کے رشتہ داروں کو اغواء کیا جاتا ہے اور تنخواہیں بھی تو ان کی چار ہزار روپے ہے ۔۔ جبکہ طالبان پچاس ہزار روپے دیتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں فرقہ وارانہ فسادات میں القاعدہ ملوث ہے اور ان کی مدد کے لیے یمن، لیبیا اور دیگر ممالک سے شدت پسند آتے ہیں۔ ان کے مطابق سوات میں خود کش بمبار وزیرستان سے آتے ہیں اور قاری مشتاق بمبار تیار کرتا ہے، جبکہ درہ آدم خیل سے ملا نامدار بھی خود کش بمبار تیار کر رہے ہیں۔

مشیر داخلہ نے بتایا کہ باجوڑ میں افغانستان سے آٹھ سو شدت پسندوں نے حملہ کیا اور اس وقت ہمارے ایک سو چونتیس ایف سی اہلکاروں نے انہیں مار بھگایا۔ ’ہم نے ایئر فورس بھی استعمال کی اور معلوم ہوا ہے کہ باجوڑ سے افغانستان کے صوبہ کنڑ تک سرنگ کھودی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے سوات کے قوم پرست رہنما افضل خان لالہ اور ان جیسے جرات مند افراد کو سراہا جو شدت پسندوں کے آگے جھکے نہیں اور اپنے علاقوں میں ڈٹے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ساڑھے آٹھ ارب منظور کیے ہیں جبکہ ایک ارب بیس کروڑ روپے اس کے علاوہ ان لوگوں کے لیے منظور کیے ہیں جن کے مکان تباہ ہوئے ہیں اور جو لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

’ہمارے دو دوست عرب ممالک نے متاثرہ افراد کے مکان بنانے کے لیے رقم فراہم کرنے کی حامی بھری ہے اور بہت جلد ملک دشمن شدت پسندوں کو بھگا کر متاثرہ لوگوں کو اپنے علاقوں میں آباد کریں گے۔‘

ایوان بالا سینیٹ میں سوات کی صورتحال پر چھبیس جنوری سے سنیٹر الیاس بلور کی تحریک پر بحث ہورہی تھی جو جمعرات کو پوری ہوئی۔

سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سید مشاہد حسین نے جمعرات کو ایوان بالا سینیٹ میں امریکہ میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے متعلق پیش کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی حراست کے دوران ڈاکٹر عافیہ کو برہنہ کرکے ان کی ویڈیو بنائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے انہیں بتایا کہ نیو یارک کی جیل میں چھ نقاب پوشوں نے ان کے ہاتھ پیچھ باندھ کر کپڑے پھاڑ کر برہنہ کرکے ان کی ویڈیو بنائی۔ ان کے بقول نیو یارک جیل میں کئی بار سکیورٹی کے نام پر انہیں برہنہ کیا جاتا رہا اور اس کی وجہ سے وہ اپنے وکیل سے بھی نہیں ملیں۔

مشاہد حسین نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور پاکستان حکومت اوبامہ انتظامیہ سے کہے کہ ’آپ انسانی حقوق کے لیے مزید کریں۔‘

سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کو جلد پاکستان لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کے حوالے کیا گیا لیکن انہیں با عزت طریقے سے واپس لانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت کی ہے۔

اس موقع پر مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد کا ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں معلومات دینے پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ انہوں نے حامد کرزئی سے ذاتی طور پر بات کرکے ڈاکٹر عافیہ کے بیٹے کو رہا کروایا۔ تاہم ان کے مطابق باقی دو دیگر بچوں کے متعلق انہیں معلومات نہیں مل پائی۔

سید مشاہد حسین نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس سات اکتوبر کو ٹیکساس کے ایک طبی مرکز میں سینیٹ کی کمیٹی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی حالت خراب تھی، ان کی یاداشت بھی اچھی نہیں تھی اور وہ کہہ رہی تھیں کہ یاداشت کو تیز کرنے کے جو انہیں انجیکشن دیے جا رہے ہیں اس سے انہیں خدشہ ہے کہ وہ مر جائیں گی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی بہن کہتی رہی ہیں کہ آٹھ برس قبل ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے مبینہ طور پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اغوا کرکے امریکہ کے حوالے کیا اور انہیں افغانستان کی بگرام ایئر بیس پر لے جایا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ ان کے القاعدہ کے سرکردہ رہنماؤں سے قریبی تعلق ہے۔

اسی بارے میں
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد