BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2009, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک مکان میں دو وزراء رہیں‘

اسرار زہری نے کہا کہ انہیں سرکاری مکان الاٹ ہوا ہے لیکن اس پر قبضہ کسی اور کا ہے۔ وہ بہت دنوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ یہ قبضہ انہیں مل جائے لیکن کوئی انکی بات ہی نہیں سنتا

پاکستانی سینیٹ کے اجلاس کے دوران ڈپٹی چیئرمین میر جان جمالی نے کہا کہ اب اتنے زیادہ وزیر ہو چکے ہیں کہ کسی کے پاس دفتر نہیں ہے تو کوئی گھر سے محروم ہے۔

یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب اسلام آباد میں نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے مکانوں پر ناجائز قابضین کے حوالے سے سوالات کے دوران ایک وفاقی وزیر نے بھی شکایت کر ڈالی کہ ان کے گھر کو بھی ناجائز قابضین سے خالی کروایا جائے۔

وقفۂ سوالات کے دوران جب بعض سینیٹروں نے وزیر ہاؤسنگ کی توجہ سرکاری کوارٹرز پر ناجائز قبضے کی جانب دلوائی تو پوسٹل سروسز کے وفاقی وزیر اسرار زہری بھی کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے ساتھی وزیر کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ان کو الاٹ ہونے والا گھر بھی ناجائز قابضین کے زیر استعمال ہے۔

سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین میر جان جمالی نے وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے اور اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو اسے وزیراعظم کے سامنے اٹھایا جائے۔

حال ہی میں وفاقی وزیر بننے والے اسرار زہری نے کہا کہ انہیں سرکاری مکان الاٹ ہوا ہے لیکن اس پر قبضہ کسی اور کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت دنوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ یہ قبضہ انہیں مل جائے لیکن کوئی ان کی بات ہی نہیں سنتا۔

اس دوران سینیٹ میں لگنے والے قہقہوں کے دوران ڈپٹی چیئرمین نے تجویز پیش کی کہ اب دو وزیر ایک گھر میں رہنا شروع کر دیں تو اسلام آباد میں وزراء کو ملنے والے گھر موجودہ کابینہ کے لئے پورے ہو سکتے ہیں۔

سرکاری بنچوں پر موجود سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب ایک وزیر کا یہ حال ہے تو عام سرکاری ملازمین ناجائز قبضہ کیسے ختم کروا سکتے ہیں۔

سینیٹ میں بدھ کے روز اس وقت قائد ایوان رضا ربانی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے درمیان تکرار ہوگئی جب بعض سیٹیرز نے بلوچستان کے بعض علاقوں میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے کے لئے ملنے والی بیرونی امداد میں گھپلوں کے الزامات عائد کیے۔

 وفاقی اور صوبائی حکومتیں سوات کے بارے میں بزدلانہ پالیسی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہاں صورتحال ابتر ہو رہی ہے
اسحاق ڈار
سینیٹر رضا محمد رضا نے کہا کہ زلزلے کے لئے ملنے والی امداد میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے خرد برد کیا ہے اور یہ امداد پشین اور دیگر علاقوں میں زلزلہ زدگان تک نہیں پہنچ سکی۔

اس موقع پر سینیٹر نے صوبائی وزیراعلٰی کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیئے جنہیں کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔

قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹر موصوف ان الزامات کا ثبوت پیش کریں بصورت دیگر مستعفی ہو جائیں۔

سینیٹ میں سوات کی صورتحال پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی قائد اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سوات کے بارے میں بزدلانہ پالیسی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہاں صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو نقصان سے بچانے کے لئے جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کی جائے۔

اسی بارے میں
مکان تمہارا سامان ہمارا
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد