’ایک مکان میں دو وزراء رہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سینیٹ کے اجلاس کے دوران ڈپٹی چیئرمین میر جان جمالی نے کہا کہ اب اتنے زیادہ وزیر ہو چکے ہیں کہ کسی کے پاس دفتر نہیں ہے تو کوئی گھر سے محروم ہے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب اسلام آباد میں نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے مکانوں پر ناجائز قابضین کے حوالے سے سوالات کے دوران ایک وفاقی وزیر نے بھی شکایت کر ڈالی کہ ان کے گھر کو بھی ناجائز قابضین سے خالی کروایا جائے۔ وقفۂ سوالات کے دوران جب بعض سینیٹروں نے وزیر ہاؤسنگ کی توجہ سرکاری کوارٹرز پر ناجائز قبضے کی جانب دلوائی تو پوسٹل سروسز کے وفاقی وزیر اسرار زہری بھی کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے ساتھی وزیر کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ان کو الاٹ ہونے والا گھر بھی ناجائز قابضین کے زیر استعمال ہے۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین میر جان جمالی نے وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے اور اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو اسے وزیراعظم کے سامنے اٹھایا جائے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر بننے والے اسرار زہری نے کہا کہ انہیں سرکاری مکان الاٹ ہوا ہے لیکن اس پر قبضہ کسی اور کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت دنوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ یہ قبضہ انہیں مل جائے لیکن کوئی ان کی بات ہی نہیں سنتا۔ اس دوران سینیٹ میں لگنے والے قہقہوں کے دوران ڈپٹی چیئرمین نے تجویز پیش کی کہ اب دو وزیر ایک گھر میں رہنا شروع کر دیں تو اسلام آباد میں وزراء کو ملنے والے گھر موجودہ کابینہ کے لئے پورے ہو سکتے ہیں۔ سرکاری بنچوں پر موجود سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب ایک وزیر کا یہ حال ہے تو عام سرکاری ملازمین ناجائز قبضہ کیسے ختم کروا سکتے ہیں۔ سینیٹ میں بدھ کے روز اس وقت قائد ایوان رضا ربانی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے درمیان تکرار ہوگئی جب بعض سیٹیرز نے بلوچستان کے بعض علاقوں میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے کے لئے ملنے والی بیرونی امداد میں گھپلوں کے الزامات عائد کیے۔ اس موقع پر سینیٹر نے صوبائی وزیراعلٰی کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیئے جنہیں کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔ قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹر موصوف ان الزامات کا ثبوت پیش کریں بصورت دیگر مستعفی ہو جائیں۔ سینیٹ میں سوات کی صورتحال پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی قائد اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سوات کے بارے میں بزدلانہ پالیسی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہاں صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو نقصان سے بچانے کے لئے جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کی جائے۔ | اسی بارے میں مکان تمہارا سامان ہمارا28 January, 2009 | پاکستان پاکستان میں پہلی بار خصوصی اقدام کی وزارت 26 January, 2009 | پاکستان سات ہزار ملازمین کی بحالی کا فیصلہ21 January, 2009 | پاکستان وزارتوں کا اعلان سنیچر کو؟26 March, 2008 | پاکستان پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم04 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||