پاکستان میں پہلی بار خصوصی اقدام کی وزارت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس وقت تریسٹھ اراکین پر مشتمل وفاقی کابینہ کو دنیا کی بڑی کابیناؤں میں شمار کیا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے اراکین اور اتحادیوں کو بظاہر خوش کرنے کی خاطر ان میں وزارتیں ’تقسیم‘ کیں۔ البتہ جہاں وزارتیں کم پڑیں وہاں ’خصوصی اقدام‘ کے نام پر ملک میں پہلی مرتبہ ایک نئی وزارت بھی قائم کی گئی ہے۔ سپیشل انیشیٹو (خصوصی اقدام) کے نام سے قائم کی گئی اس وزارت کا قلمدان صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر لعل خان کو سونپا گیا ہے۔ اس وزارت کے انچارج کا مؤقف تھا کہ ’مجھے نئے دفتر میں ذمہ داریاں پوری طرح سنبھال لینے دیں پھر بات کر لیں گے‘۔ کافی عرصے بعد انہوں نے کشمیر ہاؤس میں بی بی سی سے بات کی۔ کشمیر ہاؤس بنیادی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت کا ہے جس میں اکثر سرکاری مہمان ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اسی عمارت کے ایک کمرے میں لعل خان کا دفتر جبکہ دوسرے میں رہائش ہے۔ کچھ دیر کے بعد وفاقی وزیر برائے خصوصی اقدام لعل خان روایتی شلوار قمیض میں اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو پہلے سے میز پر منتظر مہمانوں نے اپنا تعارف کروایا۔ پہلے ان سے دریافت کیا گیا کہ کشمیر ہاؤس میں دفتر بنانے کی کیا وجوہات ہیں تو انھوں نے کہا ’صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تو بہت مہربان ہیں لیکن بیوروکریسی راہ میں روکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ وزیر اعظم نے دو ماہ سے میرا دفتر بنانے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں تاہم ابھی عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔‘ لعل خان کے مطابق انھیں وزارت چلانے کے لیے عملے کی ضرورت ہے۔ تاہم وہ اپنی کوششوں سے بڑی مشکل سے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کی تقرری کروانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی سٹاف نہیں ہے۔ ’یہاں تک کہ میرا ذاتی سیکریٹری تک نہیں ہے جبکہ وزارت کے مختلف کاموں کے لیے میں اپنی ذاتی گاڑی اور ڈرائیور استعمال کرتا ہوں۔‘ اس سوال پر کہ نئی وزرات کن مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے اور اب تک کون سے اہداف حاصل کیے گئے ہیں تو اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزرات بنانے کا مقصد عوام کو پہلے سے حاصل سرکاری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں پینے کے لیے صاف پانی کے چار ہزار پمپ ملک بھر میں لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن کی تنصیب کے لیے ٹھیکے تئیس مارچ کے بعد دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے بعض اضلاع میں گھریلو سطح پر لکڑی کا فرنیچر بنانے والوں کی تربیت اور مالی مدد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں لعل خان نے کہا کہ انھیں اندازہ نہیں ہے کہ واٹر پمپ لگانے پر کتنا خرچہ آئے گا کیونکہ ابھی تک ان کا سٹاف نہیں ہے جو تخمینہ لگا کر بتاسکے کہ کتنے وسائل درکار ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں اس لیے صاف پانی کے پمپ لگانے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں سے مدر اور رقم حاصل کی جائے گئی۔ جب ان سے پوچھا کہ ایسے منصوبے تو پچھلی حکومت نے بھی شروع کیے تھے تو لعل خان نے بتایا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بڑے اچھے منصوبے شروع کیے گئے تھے لیکن منصوبے کی تکمیل کے لیے غلط لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ جبکہ ان کی وزارت تمام منصوبوں کو مکمل طور پر شفاف بنائے گی۔ وزیر برائے خصوصی اقدامات لعل خان کے مطابق انھیں وزارت کا قلمدان سنبھالے تقریباً دو ماہ ہی ہوئے ہیں اس لیے وہ میڈیا کے سامنے نہیں جاتے کیونکہ ابھی تک کوئی کام کیا ہو تو یا کوئی چیز واضح ہو کہ کیا کرنا ہے تو پھر وہ میڈیا کے سامنے جائیں لیکن اگر کچھ ہو ہی نہ تو کس طرح میڈیا پر جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غیر ملکی سفیر اور دیگر لوگ ان سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون کرتے ہیں۔ ’لیکن مجھے بتائیں کہ میں ان لوگوں سے کیسے ملاقات کر سکتا ہوں میرے پاس تو خود بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے۔‘ | اسی بارے میں چار مزید وزراء، تریسٹھ کی کابینہ26 January, 2009 | پاکستان پی پی، ایم کیو ایم کا اتفاق رائے26 January, 2009 | پاکستان پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم04 June, 2008 | پاکستان پہلے مرحلے میں سب سے بڑی کابینہ31 March, 2008 | پاکستان چوبیس رکنی کابینہ حلف اٹھا رہی ہے31 March, 2008 | پاکستان ممکنہ وزراء کے ناموں کا اعلان30 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||