پی پی، ایم کیو ایم کا اتفاق رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کے بعد حکمران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان وفاق میں شراکت اقتدار کا اہم مرحلہ بظاہر طے ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں جماعتوں میں مرکز میں شراکت اقتدار پر اتفاق نہیں ہوپا رہا تھا جس کے باعث پچھلے سال نومبر میں جب وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی تھی تو ایم کیو ایم کے کسی وزیر نے حلف نہیں اٹھایا تھا۔ دونوں جماعتوں کے ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر اس بات پر اختلاف تھا کہ وفاقی کابینہ میں ایم کیو ایم کتنی اور کونسی وزارتوں کی حقدار ہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو مرکز میں دو وزارتیں دی گئی تھیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے اسے صرف دو وزارتوں کی پیشکش کی تھی جبکہ اس کا موقف تھا کہ کم سے کم چار وزارتیں اسکا حق بنتا ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق پارٹی کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی میں اسکے پچیس ارکان ہیں اور وزارتوں کی تقسیم کی غرض سے حکومتی اتحاد نے ہر اتحادی جماعت کو چھ نشستوں پر ایک وزارت دینے کا فارمولا طے کر رکھا ہے اس لئے ایم کیو ایم کو کم سے کم چار وزارتیں ملنی چاہییں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کا موقف یہ تھا کہ ایم کیو ایم کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کے لئے وہی فارمولا اختیار نہیں کیا جاسکتا جو دوسری اتحادی جماعتوں کے لئے اختیار کیا گیا کیونکہ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے بعد تنہا حکومت بنانے کے پوزیشن میں ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کو صوبائی کابینہ میں شامل کیا اور صوبے کے گورنر کو بھی تبدیل نہیں کیا جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو جنرل پرویز مشرف نے دسمبر 2002ء میں اپنے دور اقتدار میں مقرر کیا تھا اور اب وہ صوبے کی تاریخ کے طویل ترین مدت تک فائز رہنے والے گورنر ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق پارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کی ضلعی حکومتوں کو بھی نہیں چھیڑا گیا بلکہ انہیں بھی پارٹی کی حمایت حاصل رہی۔ تاہم اس معاملے پر دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے پچھلے سال نومبر میں جب وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی تھی تو ایم کیو ایم کے کسی وزیر نے حلف نہیں اٹھایا۔ اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے پچھلے کئی مہینوں سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا اور اب بالآخر دونوں جماعتوں کے مابین مرکز میں شراکت اقتدار پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔ ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لحاظ سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ قاف کے بعد چوتھی بڑی جماعت ہے اور سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول وفاقی کابینہ میں اسکی شمولیت سے مرکز میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہوگی جو مسلم لیگ نون کی حکومت سے علحیدگی کے بعد اتنی مضبوط نہیں رہی تھی۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا اتحاد بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں ہونے والی ایک بالکل نئی سیاسی صف بندی ہے۔ ایم کیو ایم نظریاتی طور پر پیپلز پارٹی سے زیادہ قریب ہے لیکن ماضی میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں۔ 1988ء میں بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بھی دونوں جماعتوں نے اتحاد کیا تھا لیکن وہ زیادہ عرصے نہیں چل سکا تھا۔ بعد میں پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کی نگرانی میں ایم کیو ایم کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف آپریشن کلین اپ ہوا تھا جس میں ایم کیو ایم کے مطابق اسکے سینکڑوں کارکن اور ہمدرد ماورائے عدالت قتل اور ہزاروں لاپتہ ہوگئے تھے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو جاکر ٹیلی فون پر الطاف حسین سے مذاکرات کیے تھے جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو معاف کر کے مفاہمت اور دوستی کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں عامر لیاقت حسین پارٹی سے خارج10 September, 2008 | پاکستان زرداری: سندھ میں سو فی صد ووٹ؟01 September, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاک ہونے والے طلبہ کی تدفین27 August, 2008 | پاکستان جامعہ کراچی: ہلاک پانچ ہوگئے27 August, 2008 | پاکستان استعفیٰ: متحدہ کا کلیدی کردار20 August, 2008 | پاکستان سندھ حکومت میں پھر اختلافات06 August, 2008 | پاکستان طالبان، حکومت اقدامات کرے05 August, 2008 | پاکستان مہاجر قومی مومنٹ کا مظاہرہ12 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||