عامر لیاقت حسین پارٹی سے خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے سابق وزیر مملکت عامر لیاقت حسین کو مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت حسین ’ایم کیو ایم دشمن طاقتوں کے ہاتھوں بک چکےہیں اور ایم کیو ایم کی پالیسی کے خلاف ایسی باتیں کر رہے ہیں جن سے مذہبی منافرت پھل رہی ہے۔‘ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ماضی میں ڈاکٹر حسین کو بار بار تنبیہ کی گئی لیکن وہ اپنے ٹی وی پروگرام میں مذہبی منافرت پھلانے سے باز نہیں آئے جس کی بنیاد پر انہیں ڈیڑھ سال قبل ہی تنظیمی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا تھا ۔ ایک اعلامیے میں رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے شہرت پائی اور پارٹی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی اور پھر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور بنے۔ اس کے باوجود وہ مسلسل ایم کیو ایم کے نظریے کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں اور مذہبی پروگراموں کی میزبانی کے دوران ایسی باتیں کرتے رہے جن سے ملک میں مذہبی روادراری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بجائے مذہبی منافرت پھیلنے اور مختلف فرقوں میں تصادم ہونے کا خدشہ ہے، جو ایم کیو ایم کی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔ عامر لیاقت حسین نے سن دو ہزار دو کے انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پر کراچی کے حلقے ایم اے دو سو انچاس پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے اسپین کی یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی، جسے مخالف جماعتوں نے جعلی قرار دیا تھا۔ پاکستان کے ٹی وی چینل جیو نیٹ ورک پر عالم آن لائن پروگرام کی میزبانی کرکے انہوں نے مقبولیت حاصل کی۔ مذہبی امور کے وزیر مملکت سمیت وہ محکمہ خزانہ، اطلاعات و نشریات اور ترقی و منصوبہ بندی کے محکموں کی قائمہ کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ سابق صدر پرویز مشرف بھی عامر لیاقت کے پرستاروں میں شامل تھے۔ عالم آن لائن کے ایک پروگرام میں انہوں نے متنازعہ لکھاری سلمان رشدی کو گستاخ رسول قرار دیکر ان کی تباہی کے لیے دعا مانگی تھی۔ جس کے فوراً بعد متحدہ قومی موومنٹ نے ان سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوگئے تھے۔ عامر لیاقت کے والد لیاقت حسین ایم کیو ایم کے بنیادی اراکین میں سے ہیں اور وہ متحدہ کی سماجی تنظیم خذمت خلق فاؤنڈیشن کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔ ان دنوں عامر لیاقت حسین دبئی میں ہیں، جس وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ | اسی بارے میں عامر لیاقت حسین کی پٹائی24 June, 2005 | پاکستان وزیر کی پٹائی پر مقدمہ درج 27 June, 2005 | پاکستان سندھ حکومت میں پھر اختلافات06 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||