BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 August, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت میں پھر اختلافات

ڈاکٹر فاروق ستار نے مخلوط حکومت پرتنقیدد کی ہے۔
سندھ کی مخلوط حکومت میں شامل دو اہم جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں ایک مرتبہ پھر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، اس مرتبہ یہ اختلافات ’کراچی میں طالبانائزیشن‘ کے معاملے پر سامنے آرہے ہیں۔

ایم کیو ایم کا اصرار ہے کہ کراچی میں طالبان منظم طریقے سے وجود رکھتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اس کی بھرپور انداز میں تردید کر رہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ ذولقفار مرزا اسے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سازش وہ کر رہے ہیں جو حکومت ہٹانا چاہتے ہیں۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے ورکرز کنوینشن سے خطاب، شہر میں طالبانائزیشن کے خلاف پوسٹروں اور مولوی عمر کی جانب سے کراچی میں موجودگی کے بیانات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنما ایم کیو ایم کی جانب سے طالبانائزیشن کی سازش کو بے نقاب کرنے کے عمل کو محض واویلا قرار دیکر حقائق کو چھاپنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر اور نائب فقیر محمد کے دعوں کے بعد بھی کیا یہ حکومتی اور سیاسی شخصیات کراچی میں طالبانائزیشن کے عمل سے انکار کریں گی؟

صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کراچی میں طالبانائزیشن کی اطلاعات کو حکومت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ یہ گارنٹی سے کہتے ہیں کہ کراچی میں عملی طور پر کوئی بھی طالبانائزیشن نہیں ہے۔

کیا طالبان کراچی میں پیر جمانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

تحریک طالبان کی جانب سے کراچی پر کنٹرول کرنے کے بیانات کو انہوں نے رد کیا اور کہا کہ ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ اتنے منظم ہیں جو یہاں کنٹرول کرلیں گے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بتایا کہ انہوں نے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے رابطہ کرکے ان سے مداخلت کے لیے کہا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے بہت بڑا نقصان ہوگا۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہم ایک حکومت میں بیٹھے ہیں پہلے ٹیبل پر بیٹھ کر بات کی جاتی۔ وہ ایک بہتر طریقہ تھا عوام میں جاکر اور پریس کانفرنس کرکے ملکی معشیت کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم نے جو وعدے کئے تھے کہ کراچی کو امن اور ترقی دلائیں گے، اور یہاں سرمایہ کاری لائیں گے، ان حالیہ بیانات سے سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے۔

شہر کی دیواروں پر ’طالبانائزیشن سے ہوشیار اپنی حفاظت خود کرو‘ کی عبارت والے پوسٹر کو انہوں نے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ایک منظم سازش قرار دیا اور کہا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔

ذوالفقار مرزا سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم طالبانزیشن کے خدشات کا ذکر کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہوں کہ یہاں طالبانائزیشن ہو رہی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں کوئی غلط معلومات فراہم کر رہا ہو۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان کے کراچی کے دورے پر خدشات کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ پاکستان کی معزز شہری ہیں کوئی تخریب کار نہیں۔ وہ کراچی آسکتی ہیں۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ شہر میں پشتون آبادی میں جو سات بم دھماکے ہوئے تھے ان میں کوئی مذہبی گروہ ملوث نہیں ہے۔ عنقریب یہ بتایا جائے گا یہ کس کا کام تھا۔

واضح رہے کہ دونوں جماعتوں میں یہ اختلافات اس وقت سامنے آرہے ہیں جب آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کرنے پر اتفاق کرنے کی خبریں آرہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد