عامر لیاقت حسین کی پٹائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’ عالم آن لائن‘ کے پیش کار اور مذہبی امور کے وزیرِ مملکت عامر لیاقت حسین کو جمعہ کے روز مشتعل ہجوم نے اس وقت زد و کوب کر کے زخمی کر دیا جب وہ جامعہ بنوریہ کے شیخ الحدیث مفتی عتیق الرحمٰن کے جنازے میں شرکت کے لیے سائٹ ایریا میں واقع جامعہ بنوریہ آئے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے ہی اپنی گاڑی سے اترے تو ہزاروں افراد نےانہیں گھیر لیا اور پولیس لوگوں کے سامنے بے بس ہوگئی۔ مشتعل ہجوم نے مذہبی امور کے وزیرِ مملکت کو جامعہ بنوریہ کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں بند کر دیا جہاں سے مقامی وقت کے مطابق پونے آٹھ بجے کے قریب رینجرز کی ایک بڑی تعداد اور بکتر بند گاڑی نے موقع پر پہنچ کر انہیں نکالا۔ محبوسی کے دوران عامر لیاقت موبائل فون کے ذریعے حکام سے مسلسل اپیل کرتے رہے کہ انہیں فوری طور پر بچایا جائے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار علی حسن سے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا:’ میں اس وقت لہولہان ہوں، زخمی ہوں اور مجھے مارا گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں بتا نہیں سکتا کہ میں کہاں پر ہوں البتہ کوئی میری مدد نہیں کر رہا۔ یہاں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے اور جنونیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔‘ اپنے دوسرے موبائل فون سے انہوں نے رینجرز سے رابطہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر بچایا جائے کیونکہ ان کی جان خطرے میں ہے۔ جامعہ بنوریہ کے قاری سیف اللہ نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی کے مسئلے کی وجہ سے وزیرِ مملکت کو روکا گیا تھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے آزاد ہونے کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنونی لوگ تھے اور انہوں نے میرے ہاتھوں پیروں اور پیٹھ پر زخم دیے ہیں اور وہ شاید مجھے جانی نقصان پہچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اسپتال جا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||