BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 June, 2005, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر کی پٹائی پر مقدمہ درج

وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
’حملہ کرنے والے جنونی لوگ تھے جو مجھے جانی نقصان پہنچانا چاہتے تھے‘
وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت پر کراچی میں ایک جنازے میں شرکت کے موقع پر حملہ کرنے والے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

سائٹ تھانے میں درج کیے گئے اس مقدمے میں وزیر مملکت کی سکیورٹی پر مامور اسکواڈ کے انچارج سب انسپکٹر سلیم میمن مدعی ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چوبیس جون کو وفاقی وزیر عامر لیاقت مفتی عتیق الرحمٰان کے جنازے میں شرکت کے لیے جامعہ بنوریہ گئے تھے جہاں پچیس سے تیس افراد نے ان کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کو ایک کمرے میں حبس بے جا میں رکھا۔

حملہ آوروں نے سرکاری اہلکاروں سے بندوقیں چھین لی تھیں۔ وزیر مملکت کو بعد میں رینجرز اور علماء کی مداخلت پر آزاد کیاگیا۔

ڈاکٹر عامر لیاقت نے آزاد ہونے کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والے جنونی لوگ تھے جو انہیں جانی نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد