کراچی میں تشدد، مذہبی کارکن قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں مسلح افراد کی فائرنگ میں ایک مذہبی جماعت کے رکن محمد موسٰی ہلاک ہوگئے۔ ان کا تعلق جماعت اہلحدیث سے تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہفتے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب نانک واڑہ کے علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ محمد موسیٰ کو ہسپتال لے جایا رہا تھا کہ وہ راستے میں انتقال کر گئے۔ جب ان کی لاش کو سول ہسپتال لایا گیا تو مشتعل لوگوں نے سول اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور لیاری میں ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ مشتعل ہجوم نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرں کو بھی زد وکوب کیا جس کے بعد ہسپتال کے عملے نے اس تشدد کے خلاف ہڑتال کردی ۔ تشدد کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر طارق ایوبی نے بتایا کہ محمد موسیٰ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ ان کی لاش مردہ خانے بھیج دی گئی۔ ڈاکٹر ایوبی کا کہنا تھا کہ اس موقع پر کچھ لوگوں نے ان پر ہتھیار تان لیے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ افراد لاش کو بھی بغیر پوسٹ مارٹم کے اٹھا کر لے گئے۔ بعد ازاں سول اسپتال کے پیرا میڈیکل عملے نے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کی مداخلت پر ہڑتال ختم کردی ۔ چالیس سالہ محمد موسیٰ کا تعلق لیاری سے تھا اور وہ لفٹر چلاتے تھے ۔ جمعیت اہلحدیث کے رہنما طارق حسن کا کہنا تھا کہ بظاہر قتل کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہورہی ہے۔ لیاری کے علاقے بغدادی میں محمد موسی ٰ کی لاش پہنچنے پر مشتعل لوگوں نے ٹائر جلا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک بند کر دی اور نعرہ بازی کی۔ کراچی میں جاری تشدد کی حالیہ کارروائیوں میں گزشتہ ایک ماہ میں مذہبی تنظیموں سے منسلک نو رہنما اور کارکن قتل کیے جا چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||