کراچی: ہلاک ہونے والے طلبہ کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو کراچی میں دو مختلف مقامات پر منگل کو جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے چار طلبہ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور تدفین ہوئی۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے۔ جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں اسلامی جمیعت طلبہ اور آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درمیان تصادم میں تین طلبہ ہلاک ہوگئے تھے۔ جن میں اسامہ بن آدم اور عبدالجبار، کا تعلق آئی جے ٹی سے تھا جبکہ عاطف رضا عرف رامیش اے پی ایم ایس او کے کارکن تھے۔ اس تصادم کے بعد بدھ کی صبح الفلاح سوسائٹی میں جماعتِ اسلامی کے رکن حسین اطہر کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ آئی جے ٹی اور جماعتِ اسلامی کے ارکان کی نمازِ جنازہ نمائش چورنگی پر جبکہ اے پی ایم ایس او کے کارکن عاطف کی نمازِ جنازہ جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں ادا کی گئی۔ نمائش پر نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے آنے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ امن و امان کی ذمہ داری آصف علی زرداری اور صوبہ سندھ کے وزیرِاعلٰی قائم علی شاہ کی ہے۔ انہوں نے آصف زرداری اور قائم علی شاہ کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی تعلیمی اداروں میں امن چاہتی ہے اور وہ تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔
اے پی ایم ایس او کے چئرمین وحیدالزمان نے دعوٰی کیا کہ جامعہ کراچی میں گذشتہ کئی دنوں سے جمعیت کے ارکان نے تعلیمی ماحول خراب کرنے کے لیے اے پی ایم ایس او کے ارکان پر حملے کیے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جمیعت کی تعلیم دشمن کارروائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دے۔ عاطف رضا کے جنازے میں رابطہ کمیٹی کے ارکان بابر غوری، شعیب بخاری، ڈاکٹر عاصم رضا اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب اسلامی جمیعت طلبہ کے ناظم حسن حماد نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اے پی ایم ایس او تعلیمی اداروں میں تعلیمی ماحول خراب کرنے کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو بہتر گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے بصورتِ دیگر جمیعت اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔
ہلاک ہونے والے طالب علم اسامہ بن آدم کے والد نے کہا کہ ’ہم ٹھٹہ کے رہنے والے ہیں، ہمارا بچہ تھرڈ ائر میں تھا اور وہ ہمیشہ فرسٹ پوزیشن لے کر آتا تھا۔ میرے پانچ بچے ہیں دو بیٹیاں اور تین بیٹے جن میں سے ایک بیٹا فوت ہوگیا ہے‘۔ طالبعلم عبدالجبار کے والد نثار احمد نے کہا کہ ہم منگھوپیر میں رہتے ہیں اور میرا بیٹا جامعہ کراچی میں پڑھتا تھا جو بہت ہی شریف النفس، بے ضرر اور پیار کرنے والا نوجوان تھا اور اس کی گواہی اس کے دوست، پڑوسی، اور جو بھی اس کا جاننے والا ہے دے سکتے ہیں۔ ظالموں نے میرے بیٹے کو مار دیا، مارنے کا کوئی مقصد نہیں، بس ماردیا‘۔ طلبہ تصادم کے بعد بدھ کو جامعہ کراچی میں وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن طلبہ نے تین اساتذہ سے نامناسب سلوک کیا ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اگلے دو روز تک جامعہ کراچی اور اس کے الحاقی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ | اسی بارے میں جامعہ کراچی: ہلاک پانچ ہوگئے27 August, 2008 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی بند12 May, 2008 | پاکستان کوئٹہ: یونیورسٹی پروفیسر ہلاک22 April, 2008 | پاکستان پشاور یونیورسٹی: تمباکو نوشی بند27 May, 2007 | پاکستان بلوچ یونیورسٹی، لاٹھی چارج گرفتار26 January, 2007 | پاکستان کے ای ایم سی: کالج سے یونیورسٹی23 July, 2004 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی طلبہ پر مقدمہ15 July, 2004 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی میں سب پل مسمار 14 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||