پنجاب یونیورسٹی بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے کے تنازعے کی وجہ سے پیر کوبند رہی اور درس و تدریس کا کام نہیں ہوسکا یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو چار روز کے لیے یونیورسٹی آنے سے منع کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو کتاب میلہ لگانے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس کے تمام داخلی راستوں پر پولیس تعینات ہے اور خاردار اور دیگر رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں۔طلبہ تنظیم نے جس مین کوریڈور میں بک فئیر لگانے کا اعلان کر رکھا ہے اس کے اردگرد بسیں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کسی بھی طلبہ تنظیم کے زیر انتظام کتاب میلے کو غیرقانونی قرار دے چکی ہے اور کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے یونیورسٹی چار روز کے لیے بند کردی گئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر مجاہد منصوری نے ٹیلی فون پر بتایا کہ طلبہ کو یونیورسٹی آنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ اساتذہ اور دیگر عملے کو کہا ہے کہ وہ معمول کے مطابق یونیورسٹی میں حاضر رہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کاشف عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی یونیورسٹی کھلے گی بک فئیر کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا اور یہ ہرصورت ہوکر رہے گا۔ اسلامی جمیعت طلبہ کے درجنوں کارکنوں نے اس پابندی کے خلاف اتوار کی شام یونیورسٹی ہاسٹلز کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے مخالفین اس پرالزام عائد کرتے ہیں کہ بک فئیر سے ہونے والی آمدن براہ راست طلبہ تنظیم وصول کرتی ہے۔ جمعیت کے عہدیدار کاشف عارف نے کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو پیشکش کی ہے کہ وہ کسی استاد کی سربراہی میں ایک آڈٹ کمیٹی بنادے جس میں طلبہ بھی شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ ہر روز ڈرامے کروانےکی اجازت تو دے رہی ہے لیکن کتاب سے طلبہ کو بزور بندوق دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے گزشتہ برس بھی اسلامی جمعیت طلبہ کو بک فئیر نہیں لگانے دی تھی جس کے نتیجے میں نیو کیمپس میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کے بعض معاملات میں بے جا مداخلت کرتی ہے۔ تقریباً چھ مہینے پہلے اسی تنظیم کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان کو اس وقت پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا تھا جب وہ ججوں کی بحالی کی ایک سٹوڈنٹس ریلی سے خطاب کے لیے یونیورسٹی کیپمس پہنچے تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کو جماعت اسلامی ایک ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔عمران خان کی گرفتاری پر امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور جمعیت کے متعدد عہدیداروں کی بنیادی رکنیت ختم کردی گئی تھی۔ | اسی بارے میں طلبہ تنظیموں کے دفتر بند، حکمنامہ جاری20 November, 2007 | پاکستان یونیورسٹی اساتذہ ہڑتال کریں گے16 July, 2004 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی میں سب پل مسمار 14 July, 2004 | پاکستان ہلاکت و ہنگامے: یونیورسٹی بند 17 May, 2005 | پاکستان کراچی کے تعلیمی ادارے بند17 February, 2005 | پاکستان زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر14 November, 2005 | پاکستان پشاور یونیورسٹی کا ایف ایم اسٹیشن17 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||