BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طلبہ تنظیموں کے دفتر بند، حکمنامہ جاری

اسلامی جمعیت طلبہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مبینہ بدسلوکی کی تھی اور انہیں ایک گھنٹہ تک محبوس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیاتھا
پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت نیو کیمپس اور اولڈ کیمپس سے طلبہ تنظیموں کے دفتر بند کیے جا رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب طلبہ و طالبات مظاہرے ختم کردیں گے اور یونیورسٹی میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوسکیں گی۔

پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد یونیورسٹی سے اسلامی جمعیت طلبہ کے دفاتر کےخاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس مطالبے کے حق میں اب تک یونیورسٹی میں تین بڑے احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔

پیر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کا اختتام وائس چانسلر کے دفتر کےسامنے ہوا جہاں وائس چانسلر نے سینکڑوں احتجاجی طلبہ و طالبات کے اس مطالبے کو ماننے کا وعدہ کیا تھا۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مبینہ بدسلوکی کی تھی اور انہیں ایک گھنٹہ تک محبوس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے پنجاب یونیورسٹی میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کے اردگرد تعنیات ہے۔

یورنیورسٹی کے طلبا کہتے ہیں
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کا الزام ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ چالیس برس سے یونیورسٹی پر مسلط ہے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف بات کرنے والے طلبہ وطالبات کو تشدد کانشانہ بناتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ ان کا ساتھ دیتی ہے۔

جمعیت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا مقبول نعرہ ہے کہ ’یونیورسٹی کو بچانا ہے جمعیت کو بھگانا ہے‘۔

جمعیت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ ہر اس انتظامی افسر کے خلاف ہیں جس کے بارے میں انہیں شبہ ہے کہ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی حمایت کرتے ہیں۔

شعبہ ابلاغیات کے چئیرمین مغیث الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کل مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے ان سے بدسلوکی کی اور انہیں گھسیٹتے ہوئے باہر تک لے آئے۔

ادارہ علم ابلاغیات کی ایک پریس ریلیز کے مطابق اساتذہ کے ایک اجلاس میں اس حملے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا کہ ان احتجاجی طلبہ نے متعدد اساتذہ کو زدو کوب کیا ہے۔

اسی شعبہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مجاہد منصوری، ڈاکٹر شفیق جالندھری، ہائی انرجی کے ڈین ڈاکٹر خواجہ حارث رشید اور شعبہ فزکس کے ڈین مجاہد کامران سمیت مختلف شعبوں کے پندرہ نامزد اور چالیس کے قریب نامعلوم اساتذہ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ، بلوہ، کارِ سرکار میں مداخلت اور نقضِ امن و عامہ کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

پولیس کے مطابق ان اساتذہ نے اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی کےصدر ممتاز سالک کی سربراہی میں ڈیڑھ ہفتے پہلے ایمرجنسی کے خلاف نعرے بازی کی تھی اور جلوس نکالا تھا۔مقدمہ میں نامزد استاد ممتاز سالک نے بی بی سی کو بتایا ک اساتذہ کی ریلی پُرامن تھی اور ان کا مطالبہ محض یہ تھا کہ میڈیا آزاد کیا جائے عدلیہ کو بحال کیا جائے۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نعیم خان نے بھی اساتذہ کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مسئلے کو طول دینے والا اقدام ہے۔

عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کا الزام ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ چالیس برس سے یونیورسٹی پر مسلط ہے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف بات کرنے والے طلبہ وطالبات کو تشدد کانشانہ بناتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ ان کا ساتھ دیتی ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک طالبعلم نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری یونیورسٹی انتظامیہ اور اسلامی جمیعت طلبہ کی ملی بھگت ہے اور وہ اب بھی انہیں تحفظ دے رہی ہے۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار نعیم خان نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جامعہ سے سیاسی پارٹیوں سے ملحق تمام تنظیموں کے دفاتر کو بند کیا جارہا ہے اور اگر اس سلسلے میں امن وامان کا مسئلہ ہوا تو پولیس سے مدد حاصل کی جائے گی۔

پنجاب یونیور سٹی کے وائس چانسلر نے کہا بدھ کو انہوں نے تمام شعبہ جات کے سربراہوں کو بلایا ہے اور ان سے پوچھاجائے گا کہ یونین کے دفاتر بند کیے گئے ہیں یا نہیں۔

ادھر اسلامی جمعیت طلبہ نے عمران خان سے بدسلوکی کے واقعہ پر معذرت کی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ نئے ناظم عتیق الرحمان نے ٹیلی فون پر بتایاکہ ان کا کوئی دفتر نہیں ہے،مختلف شعبہ جات میں کامن روم ضرور ہیں جہاں جمیعت کے کارکن بیٹھتے ہیں اور اگر انتظامیہ انہیں بند کرنا چاہتی تو جمعیت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی گی۔

البتہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی گرفتاری میں جمعیت کے کارکنوں کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کا بھی ہاتھ ہے۔ تاہم عمران خان کی گرفتاری میں ملوث جمعیت کے کارکنوں کی بنیادی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔

سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
ایمرجنسی کا نواں دنایمرجنسی کانواں دن
طلباء، وکلاء کا احتجاج، بےنظیر کی دعائیں
صدر مشرفملک گرداب میں ہے
صدر کو اپنے عوام سے زیادہ بیرونی دنیا کی فکر
صدر مشرفانتخابات کا اعلان
صدر مشرف کی پسپائی یا نئی مورچہ بندی
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
احتجاجمظاہرے، احتجاج
ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے جاری
ایک وکیل احتجاج کرتے ہوئےپانچواں دن
پاکستان بھر میں لوگ سراپا احتجاج
اسی بارے میں
بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں
11 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش
10 November, 2007 | پاکستان
جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم
12 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد