بلوچ یونیورسٹی، لاٹھی چارج گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے بلوچستان یونیورسٹی سے چھاپہ مار کر کم سے کم تین طلبا کو گرفتار کیا ہے جبکہ طلبا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے جس سے دو طلبہ زخمی ہوگئے۔ پولیس پانچ سے زیادہ طلبہ کو گرفتار کرکے لے گئی ہے۔ یہ کارروائی کل رات کے وقت کی گئی ہے ۔ طلبا ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما آصف بلوچ نے بتایا ہے کہ وہ ہاسٹل میں رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ بڑی تعداد میں پولیس نے یونیورسٹی کو گھیرے میں لے لیا اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔ آصف بلوچ نے بتایا کہ ان کی اس پریس کانفرنس کے بعد کی گئی ہیں جس میں انھوں نے یونیورسٹی کیمپس پولیس، فیسوں میں اضافہ اور فوجی وائس چانسلر کی تعیناتی کے مسائل اٹھائے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ سے امتحانات شروع ہو رہے ہیں جس کے لیے طلبا تیاریاں کر رہے تھے۔ اس بارے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان ناصر سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ پولیس کو کچھ طلبہ یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کے حوالے سے کچھ مقدمات میں مطلوب تھے جنھیں گرفتار کیا گیا ہے لیکن طلباء نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی ہوئی ہے اس لیے اب انھیں رہا کر دیا جائے گا۔ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر بریگیڈئر ریٹائرڈ احمد گل نے گزشتہ ماہ ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے حالات بہتر کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: دھماکے میں ایک ہلاک02 December, 2006 | پاکستان بی این پی کے نائب صدر گرفتار15 December, 2006 | پاکستان اساتذہ تنظیموں پر پابندی، احتجاج24 July, 2006 | پاکستان بلوچ استاد حراست میں ہلاک22 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||