BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اساتذہ تنظیموں پر پابندی، احتجاج

احتجاج
اساتذہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج تین روز سے جاری ہے
سندھ میں صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم کے ملازمین اور اساتذہ تنظیموں پر پابندی کے خلاف سندھ کے اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کی طرف سے گزشتہ دنوں ایک حکم نامے کے ذریعے اساتذہ کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر محکمے کا کوئی ملازم یا استاد یونین سازی کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف ملازمتوں کے برطرفی کے آرڈیننس کے تحت کارروائی کی جائےگی۔

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سندھ میں گزشتہ تین روز سے اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ اس دوران تحصیل ہیڈ کوآرٹرز سے لے کر چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں کی گئی ہیں۔

تنظیموں پر پابندی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کھاتے میں کام کرنے والے ملازمین نے غیرقانونی طریقے سے تنظیمیں بنائی تھیں جو غیر قانونی ہونے کے علاوہ ہڑتال اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھیں جس سے تعلیمی ماحول خراب ہورہا تھا ۔

صوبائی وزیر تعلیم حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں پر سوچ بچار کے بعد پابندی عائد کی گئی ہے۔

ان کے مطابق یہ تاثر درست ہے کہ سندھ میں تعلیم زوال پذیر ہے جس میں ان یونین اور ایسوسی ایشنوں کا بھی کردار ہے۔’ان تنظیموں اور ان کے رہنماؤں نے اپنی تعلیم دشمن سرگرمیوں کے ذریعے پورے نظام تعلیم کو مفلوج کر دیا ہے‘۔

اساتذہ تنظیموں کے اتحاد سندھ ایمپلائزالائنس کے چئرمین محمد رفیق جروار نے اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت اپنے فیصلے سے دستبردار نہیں ہوگی احتجاج جاری رہےگا۔

احتجاج کے دوسرے مرحلے میں جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا جائے گا

الائنس کے رہنما لیاقت عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ووٹرلسٹوں میں اندراج کی ڈیوٹی اور آئندہ الیکشن کی ڈیوٹیوں کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں احتجاجی مظاہرے اور بھوک ہڑتالوں سمیت سرکاری دفاتر کا گھیراؤ کیا جائےگا جبکہ دوسرے مرحلے میں جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا جائےگا۔

واضح رہے کہ سندھ میں ایک لاکھ تیس ہزار پرائمری، بیس ہزار سے زائد سیکنڈری اور ساڑے سات ہزار کالج اساتذہ ہیں۔

ان اساتذہ سے درس اور تدریس کے علاوہ انتخابات میں بھی ڈیوٹی لی جاتی ہے اس وقت جب ووٹر لسٹوں میں اندراج کا مرحلہ جاری ہے۔ اس فیصلے سے حکومت کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انسانی حقوق کمیشن اور سندھ بار کونسل نے بھی حکومت کے اس قدم کو بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے منافی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں
استاد کی سزا حوالات
06 November, 2003 | پاکستان
بلوچ استاد حراست میں ہلاک
22 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد