BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 April, 2008, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: یونیورسٹی پروفیسر ہلاک

بلوچ جنگجو
بلوچ لبریشن آرمی نے صفدر کیانی پرحملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے
بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفسر صفدر کیانی یونیورسٹی کے سامنے فائرنگ سے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے پروفیسر صفدر کیانی یونیورسٹی کے سامنے رہائشی کالونی گرین ٹاؤن سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے۔

اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے صفدر کیانی پرحملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر منصور اکبر کنڈی نے بتایا ہے کہ پروفیسر صفدر کیانی کو حال ہی میں پرو وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ منصور اکبر کنڈی کے مطابق صفدر کیانی سینیئر استاد کے علاوہ ایک اچھے منتظم تھے۔

پروفیسر صفدر کیانی نے باٹنی کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی اور انیس سو اسی میں بلوچستان یونیورسٹی میں تدریس سے منسلک ہو گئے تھے۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر پنڈ دادن خان سے بتایا گیا ہے۔

ایک ماہ میں بلوچستان کے دوسری ماہر تعلیم کو ہلاک کیا گیا ہے۔ وسط اپریل میں لورالائی ریذیڈنشل کالج کے پرنسپل محمد علی کو ان کے ملازم نے ہلاک کر دیا تھا۔

دوسری طرف بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ کے مطابق کاہان کے قریبی علاقے کرمو وڈھ اور چھبی کچھ میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں جن میں فورسز کا نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کاہان سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنت علی اور قریب دیہاتوں میں فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا ہے جہاں فصلوں کو آگ لگائی گئی ہے اور خواتین سے بدتمیزی کی گئی ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی میں آئل اینڈ گیس ڈیویلپنٹ کمپنی لمیٹڈ کو جانے والی پانی کی لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے اور اس کے بعد فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھی کینال پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملہ کیا گیا ہے جس میں دو مزدور زخمی اور دو کے اغوا کی اطلاعات ہیں اور مشینری کو تباہ کیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے ان حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں
پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد