بلوچستان میں اساتذہ کی تربیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان یونیورسٹی کے ایک سو چالیس اساتذہ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ اساتذہ ایم اے کی تعلیم کے بعد آگے تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے۔ وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ احمد گل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یونیورسٹی کے کل اساتذہ کی تعداد تین سو پچہتر میں سے صرف پچہتر اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں اس لیے اب اساتذہ کو جی آر ای یعنی گریجوئیٹ ریکارڈ ایگزامینیشن اور نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم ایگزامینیشن میں کامیابی کے لیے یونیورسٹی نے کراچی سے اساتذہ کو تعینات کیا ہے اور یونیورسٹی کراچی سے آئے ہوئے ماہرین کو فی کس دس ہزار روپے ادا کر رہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ اس فیصلے کے وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہاں اساتذہ خود نہیں پڑھ رہے تھے اور وہ صرف ایم اے کی تعلیم حاصل کر کے مطمئن تھے اور دوسرا یہ کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق بلوچستان
وائس چانسلر بریگیڈیئر ریٹائرڈ احمد گل سے جب یہ پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ فوجی کو ہی یونیورسٹی کا سربراہ کیوں مقرر کیا گیا ہے کسی پروفیسر کو کیوں نہیں تو انہوں نے کہا کہ فوجی بہتر منتظم ہوتا ہے اور اس کا مختلف امور کا تجربہ ہوتا ہے جب کہ پروفیسر تو صرف ایک ہی مضمون کا ماہر ہوتا ہے۔ وائس چانسلر نے آج صحافیوں کو اس لیے بلایا تھا کہ یونیورسٹی کے حوالے سے طلباء تنظیموں کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے تھے کہ فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور طلبا کی نشستوں میں کمی کر دی گئی ہے لیکن وائس چانسلر نے بتایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔
وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتایا اور معیار تعلیم بہتر کرنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی چھتیس سالہ تاریخ میں یونیورسٹی سینیٹ کا دوسرا اجلاس انیس اپریل کو ہو رہا ہے جب کہ چھتیس سالوں میں صرف ایک کانووکیشن ہوا ہے اور ان کے دور میں دوسرا کانوکیشن ہوگا جس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹلز میں پرانے فرنیچر کی جگہ نیا فرنیچر فراہم کیا جا رہا ہے اور طلبا کو بہتر ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں زرعی یونیورسٹی میں دھماکہ05 October, 2006 | پاکستان ہزارہ یونیورسٹی کا گزارا کیسے ہوگا؟23 November, 2005 | پاکستان ہلاکت و ہنگامے: یونیورسٹی بند 17 May, 2005 | پاکستان یونیورسٹی اساتذہ ہڑتال کریں گے16 July, 2004 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی طلبہ پر مقدمہ15 July, 2004 | پاکستان پنجاب یونیورسٹی میں سب پل مسمار 14 July, 2004 | پاکستان پشاور یونیورسٹی کا ایف ایم اسٹیشن17 January, 2004 | پاکستان فائرنگ: قائد اعظم یونیورسٹی بند14 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||