BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 May, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور یونیورسٹی: تمباکو نوشی بند

پشاور یونیورسٹی
اس پابندی کا مقصد یونیورسٹی کوہر قسم کی تمباکو نوشی سے پاک علاقہ قرار دیناہے
پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس میں یکم جون سے تمباکو نوشی اور نسوار پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس پابندی کے تحت یکم جون سے جامعہ کے حدود میں سگریٹ اور نسوار کی خرید وفروخت پر بھی مکمل پابندی ہوگی جبکہ خلاف ورزی پر دکانداروں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

دوسری طرف ایک سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پشاور یونیورسٹی میں پانچ ہزار سے زائد طلبہ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں جن میں 78 فیصد طلباء و طالبات فیشن کے طورپر سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے انتظامی افسر بادشاہ منیر بخاری نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تمباکو نوشی پر پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد مرحلے وار کرایاجائے گا جس کا مقصد جامعہ کو ہر قسم کی تمباکو نوشی سے پاک علاقہ قرار دیناہے۔

’پہلے کیمپس کے حدود میں باہر سے سگریٹ اور نسوار کی فراہمی روک دی جائیگی، دوسرے مرحلہ میں اس لعنت کے خلاف آگاہی کی مہم شروع کی جائیگی جبکہ آخری مرحلہ میں تمباکو نوشی کا استعمال دفاتر اور ڈیپارٹمنٹس میں ممنوع قرار دیاجائےگا‘۔

پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سولہ مئی کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کیمپس کے حدود میں سگریٹ نوشی اور نسوار کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور طلبہ کے والدین نے کافی سراہا تھا۔

باشاہ منیر بخاری نے بتایا کہ کیمپس کے تمام دکانداروں کو پہلے ہی ایک نوٹس بھیجا گیا ہے جس میں انہیں خبردار کیاگیا ہے کہ یکم جون کے بعد وہ اس پابندی پر عمل دارمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ان کے اجازت نامے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

 سگریٹ نوشی کو مکمل طورپر تو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر پابندی اور آگاہی مہم سے اس کے استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے
یونیورسٹی کے میڈیا افسر بخت زماں

ان کے مطابق ’یونیورسٹی میں زیادہ تر طالب علم شوقیہ سگریٹ پیتے ہیں۔ انہیں جب کیمپس میں سگریٹ نہیں ملے گی تووہ اس کےلیے خاص طور پر یونیورسٹی سے باہر نہیں جائیں گے لہذا طلبہ باآسانی اس لعنت سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں‘۔

پشاور یونیوسٹی کے میڈیا اور پروٹوکول افسر بخت زمان نے بتایا کہ سگریٹ نوشی پر پابندی کے اعلان کے بعد مختلف تنظیموں، طلبہ کے والدین اور لوگوں کی طرف سے اس فیصلے کو کافی سراہا گیا ہے جس سے یونیورسٹی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی کو مکمل طورپر تو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر پابندی اور آگاہی مہم سے اس کے استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ادھر اباسین فاؤنڈیشن پاکستان، پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ پلمونالوجی کے ایک حالیہ مشترکہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کیمپس میں پانچ ہزار سے زائد طلباء وطالبات سگریٹ نوشی کے عادی ہیں جبکہ یونیورسٹی کا ہر چوتھا طالب علم سگریٹ پیتا ہے۔ سروے کے مطابق 78 فیصد طلبہ محض فیشن کے طورپر سگریٹ پیتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے کسی تعلیمی اداراے نے پہلی بار اپنی حدود میں سگریٹ نوشی پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
بچے شکایت درج کرا سکیں گے
25 November, 2004 | پاکستان
قانون کے تقاضے
30 September, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد