نیٹ کیفے کے لیے ضابطہ اخلاق جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی انتظامیہ نے انٹرنیٹ اور گیمنگ کیفیز میں غیر اخلاقی ویب سائٹس کی نمائش کو روکنے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ سلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام انٹرنیٹ کیفیز کے مالکان کو ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائےگا اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق انٹرنیٹ کیفیز کے مالکان کیفیز میں کسی بھی غیر اخلاقی حرکات اور منشیات کے استعمال کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔اس وقت اسلام آباد میں سو سے زائد انٹرنیٹ کیفیز قائم ہیں۔ اس ضابطہ اخلاق کے مطابق اسلام آباد کے تمام انٹرنیٹ کیفیز کو پہلے مرحلے میں رجسٹر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی طالبعلم کو سکول اور کالج کے اوقات میں یونیفارم میں ان کیفیز میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انٹرنیٹ کیفیز کے مالکان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تمام صارفین کا نام ، پتہ اور اگر وہ بالغ ہیں تو ان کے شناختی کارڈ کے نمبر رجسٹر میں درج کیے جائیں۔ انتظامیہ نے انٹرنیٹ کیفیز میں بند کیبن بنانے کی ممانعت کر دی ہے اور ساتھ ہی کیبنوں کی ملحقہ دیواروں کو چار فٹ سے زیادہ اونچا نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ضابطہ اخلاق میں یہ بھی درج ہے کہ ان کیفیز میں تمباکو نوشی کی ممانعت ہو گی تاکہ صارفین سگریٹ کے علاوہ منشیات کا استعمال بھی نہ کر سکیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے بدھ کی شب ایف ایٹ سیکٹر میں سکورپیو نامی ایک گیمنگ اور انٹرنیٹ کیفے میں چھاپہ مار کر وہاں سے ایک سو بیس گرام چرس برآمد کی ہے اور کیفے کو سیل کر دیا ہے۔ اس کیفے کے دو ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ اس کیفے کا مالک ابھی تک مفرور ہے۔ اسلام آباد کے ایک نیٹ کیفے نیٹ پوائنٹ کے مالک نعیم اختر کا کہنا ہے کہ انٹر نیٹ کیفیز میں نو عمر لڑکوں خصوصاً بارہ تیرہ سال کے لڑکوں کو نیٹ استعمال ہی نہیں کرنے دیا جاتا کیونکہ پتہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کیا کرنا ہے۔ تاہم ان کے مطابق نیٹ کیفے کی انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ ہر کیبن میں گھس کر دیکھیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کیفے میں زیادہ تر افراد یا تو بھارتی فلمیں دیکھتے ہیں یا میوزک سنتے ہیں۔ اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر احتشام مہر، جنھوں نے ایک گیمنگ کلب سے چرس برآمد کی ، کا کہنا تھا کہ ان انٹرنیٹ کیفیز میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ملک میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کے لیے ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پہلے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اس بارے میں قانون سازی کرے۔ | اسی بارے میں نیٹ کیفیز، بند کیبن ہٹانے کاحکم18 May, 2005 | پاکستان پاکستانی نیٹ کیفوں میں فحاشی 31 March, 2004 | پاکستان انٹرنیٹ کے شوقین21 March, 2005 | پاکستان انٹر نیٹ دوستی، شادی، مقدمہ 15 April, 2004 | پاکستان انٹرنیٹ چیٹنگ، اغواءاور قتل 27 May, 2005 | پاکستان انٹرنیٹ ’کیدو‘ بنا ہوا ہے01 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||