BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 January, 2009, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات ہزار ملازمین کی بحالی کا فیصلہ

ملازمین کی بحالی کے فیصلہ کوکابینہ کے اجلاس میں منظوری دی گئی
حکومت پاکستان نے سابقہ ادوار میں مختلف محکموں اور نیم خود مختار اداروں سے برطرف کردہ سات ہزار سے زیادہ ملازمین کو تین سال کی مراعات کے ساتھ بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا کہ برطرف ملازمین کی بحالی کے بارے میں جلد صدارتی آرڈیننس جاری ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ سات سے آٹھ ہزار ملازمین، جو انٹیلی جنس بیورو، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں، تیل اور گیس کی کارپوریشن، پاکستان سٹیٹ آئل، پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی، سٹیٹ لائف، زرعی ترقیاتی بینک، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں سے برطرف کیے گئے تھے۔

زیادہ تر ملازمین سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور میں برطرف کیے گئے تھے اور اس کی وجہ ’سیاسی بنیادوں پر بھرتی‘ کو روکنا بتایا گیا تھا۔ بعد میں سینکڑوں ملازمین کو سپریم کورٹ کےحکم پر بحال بھی کیا گیا تھا۔ لیکن کئی ملازمین کے گزشتہ دس سے بارہ برسوں سے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التواٰ تھے۔

 اس بارے میں وزارت قانون تمام قانونی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک آرڈیننس تیار کر رہی ہے جو جلد جاری ہوگا اور تمام ملازمین دو سے تین ماہ کے اندر بحال ہوجائیں گے
شیری رحمٰن

شیری رحمٰن نے بتایا کہ حکومت کی مالی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے اس لیے برطرف ملازمین کو صرف تین برسوں کی مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ملازمین کے واجبات تین برسوں میں ادا کیے جائیں گے اور اس پر ساڑھے سات سے آٹھ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انٹیلی جنس بیورو سے ملازمین کی برطرفی کو عدالت نے جائز قرار دیا تھا تو انہوں نے کہا کہ تمام برطرف ملازمین کی بحالی پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں وزارت قانون تمام قانونی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک آرڈیننس تیار کر رہی ہے جو جلد جاری ہوگا اور تمام ملازمین دو سے تین ماہ کے اندر بحال ہوجائیں گے۔

شیری رحمٰن نے بتایا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مزید شرح سود میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں شرح سود میں کم از کم چار فیصد اضافہ کیا گیا تھا اور مختلف بینک بیس فیصد سے زیادہ شرح سود پر قرضہ دے رہے ہیں، جس سے کنزیومر بینکنگ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کپاس اور گندم سمیت حکومت نے جن فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کی ہے، ان کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اسی بارے میں
ہزاروں کی نوکریاں بحال
05 November, 2008 | پاکستان
سکیورٹی : کابینہ کا اہم اجلاس
29 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد